Al-Risala · December 1989 · page 35

سفر نامہ راجستھان - ۴

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۵

صحت بخش مقام ہے۔ اس سفر میں حاجی عبدالكريم صاحب، ظفر مسعود رضوی صاحب اور کچھ دوسرے لوگ ساتھ تھے۔

ظفر مسعود رضوی صاحب (۴۸ سال) سروہی میں رہتے ہیں۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ ان کے یہاں الرسالہ کے کیسٹ بھی موجود ہیں۔ وہ اوپر کی منزل میں رہتے ہیں۔ ایک روز ان کے یہاں " تعمیر ملت " نام کا کیسٹ بج رہا تھا۔ ان کے پڑوس میں مسٹر کرشن کمار نیچے کے حصہ میں رہتے ہیں۔ مسٹر کمار کے کان میں اس کی آواز گئی تو انھیں دل چسپی ہوگئی۔ انھوں نے کیسٹ کو مانگ کر دوبارہ اس کو مکمل طور پر سنا۔ اب ان کی دل چسپی اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہر مہینہ الرسالہ (اردو) کو پڑھ ہو کر سنتے ہیں۔ اسی طرح یہاں کے کئی اور ہندو بھی۔

سروہی میں ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ میں نے مسلمانوں کے بعض اجتماعات میں شرکت کی ہے۔ وہ لوگ اجتماع کے آخر میں لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں۔ مگر ساری دعا صرف مسلمانوں کے لئے ہوتی ہے۔ ملک کی خوش حالی یا قوم کی ترقی کے لئے کوئی دعا نہیں کی جاتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کو صرف اپنے گروہ سے دل چسپی ہے۔ ملک و قوم سے آپ لوگوں کو کوئی دل چسپی نہیں۔ یہ تنقید میرے نزدیک بجا ہے۔ مسلمانوں کو اس پر دھیان دینا چاہئے۔

یہاں ایک معروف شخص ماسٹر من موہن لال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سروہی ضلع (اور اسی طرح دوسرے مقامات پر، ملی جلی کمیٹی بنائی جائے ۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوں۔ اگر کہیں مسلمان زیادتی کرتے ہیں تو ان کے خلاف کمیٹی کے مسلم ممبران آواز اٹھائیں۔ اور اگر کہیں ہندو زیادتی کرتے ہیں تو کمیٹی کے ہندو ممبران اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔

موجودہ حالت یہ ہے کہ ہندو بولنے والے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف بولتے ہیں، اسی طرح مسلمان بولنے والے ہمیشہ ہندوؤں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ یہ بالکل بے فائدہ ہے۔ اگر ماسٹر من موہن لال کی تجویز پر عمل کیا جائے تو یقیناً فساد کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ان میں بہت کمی آجائے گی ۔

سروہی سے آبو روڈ جاتے ہوئے پنڈ و اڑہ ملتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اگست ۱۹۸ میں فرقہ وارانہ فسانہ ہوا تھا۔ یہاں ایک مسلمان کی کرانہ کی دکان ہے۔ یہاں سے مزدور طبقہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page