Al-Risala · December 1989 · page 36

سفر نامہ راجستھان - ۴

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۶

کے ایک ہندو نے کچھ سامان ادھار خریدا۔ بعد کو ایک روز مسلم دکان دار نے مذکورہ ہندو سے پیسہ کا تقاضا کیا۔ ہندو نے پیسہ نہیں دیا تو دکان دار نے اس کی سائیکل رکھ لی۔ ہندو نے مقامی آر ایس ایس والے سے شکایت کی ۔ وہ آئے اور دکان دار سے کہا سنا ۔ دکان دار نے سائیکل واپس کر دی۔

بظاہر بات ختم ہو گئی۔ مگر ایک مسلم نوجوان جو مذکورہ دکان دار کا دوست تھا ۔ اس کو واقعہ معلوم ہوا تو اس نے مذکورہ ہندو کو بازار میں پکڑا اور اس سے تکرار شروع کی۔ اس دوران مسلم نوجوان نے ایک لکڑی لے کر اس کو مار دیا۔ اب ہندوؤں نے ہندو مزدور کی طرف داری کرتے ہوئے مسلم نوجوان کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ سخت زخمی ہو کر وہ مسلمان مرگیا۔ تاہم بات اس کے بعد زیادہ آگے نہیں بڑھی۔ ایڈ منسٹریشن نے جلد ہی حالات پر قابو پالیا۔ اسی راستہ میں دوسرا قصبہ سروپ گنج آتا ہے۔ یہاں فروری ۱۹۸۹ میں فساد ہوا تھا۔ ہیڈ گوآر جنم شتابدی منائی جارہی تھی۔ اس موقع پر آدی واسی تقریباً ۵ ہزار کی تعداد میں جمع ہو گئے۔ اس سلسلہ میں ایک جلوس نکالا جانا تھا۔ جلوس کا راستہ ایک مسجد سے گزرتا تھا۔ مسلمانوں کو اس پر اعتراض ہوا۔ اب تناؤ بڑھا۔ انتظامی افسران نے چند ہندوؤں اور چند مسلمانوں کو بلا کر گفتگو کی۔ ہندوؤں نے کہا کہ اگر آپ ہمارے جلوس کو اپنے علاقہ سے گزرنے سے روکیں گے تو ہم بھی آپ کا کوئی جلوس اپنے علاقہ سے گزرنے نہیں دیں گے۔ آخر کار مسلمان راضی ہوگئے اور یہ طے ہو گیا کہ ہندوؤں کا جلوس مسجد کی طرف سے گزر جائے ۔

مگر مسلم صاحبان نے واپس آکر اس سمجھوتہ کی خبر فوراً مسلمانوں کو نہ دی۔ اور نہ وہ جلوس کے وقت مسجد کے پاس موجود رہے کہ اعلان کر کے مسلمانوں کو اس کی بابت بتاتیں ۔ چنانچہ عام مسلمان سابقہ ذہن میں رہے۔ جلوس جب مسجد کے سامنے سے گزرا تو کسی مسلمان یا چند مسلمانوں نے جوش میں آکر جلوس پر پتھر پھینک دیا۔ اس پر فساد بھڑک اٹھا۔ جانی نقصان تو کوئی نہیں ہوا۔ مگر مسلمانوں کی تقریباً ۵۰ لاکھ روپیہ کی جائداد جلا دی گئی۔

آبورو ڈ کی ایک دیوار پر ہندی میں لکھا ہوا تھا " "درگھٹنا چالک کے لئے کلنک ہے “۔ یعنی حادثہ ڈرائیور کے لئے داغ ہے۔ یہ بات جس طرح ایک گاڑی کے ڈرائیور کے لئے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page