سفر نامہ راجستھان - ۴
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۷
صحیح ہے، اسی طرح وہ قوم کے لیڈر کے بھی صحیح ہے۔ لیڈر اپنی قوم کو ایک راستہ پر دوڑائے اور قوم اس پر چل کر بربادی کے گڑھے میں جاگرے، توحساس لیڈر کے لئے ایسا کوئی واقعہ موت کا حکم رکھتا ہے۔ بے حس لیڈر ایسے موقع پر دوسروں کو بربادی کا ذمہ دار ٹھہر کر مطمئن ہوجائے گا۔ مگر حساس لیڈر کے لئے وہ ایسا حادثہ ہوگا کہ اس کی زبان بند ہوکر رہ جائے۔
راستہ میں بناس ندی پر ایک قدیم پل ہے۔ اس کا نام رجو اڑہ پل ہے۔ یہ تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے کا بنا ہوا ہے۔ آج بھی وہ پوری طرح مضبوط ہے۔ مگر چوڑائی میں اتنا کم ہے کہ بیک وقت اس سے صرف ایک بڑی گاڑی گزر سکتی ہے۔ ڈیڑھ سو سال پہلے کے انسان کو "مضبوطی" کی اہمیت معلوم تھی، مگر اس کو "چوڑائی" کی اہمیت معلوم نہ تھی۔ یہ انسانی عقل کی محدودیت ہے۔ وہ صرف حال کو جان سکتا ہے، مستقبل کو یقینی صورت میں جاننا اس کے لئے ممکن نہیں۔ آبو روڈ سے ماؤنٹ آ ابو کا فاصلہ تقریباً ۲۸ کلو میٹر ہے۔ یہ پورا راستہ چکر دار پہاڑی سڑک پر طے ہوتا ہے۔ سڑک کے دونوں طرف اونچے پہاڑ اور گہری کھائی کے مناظر تھے۔ سبزبر درختوں سے پورا ماحول ڈھکا ہوا تھا۔ یہ ۳۰ جولائی کی شام کا وقت تھا۔ ہوائیں تیز چل رہی تھیں ۔ گاڑی کی کھڑکیاں بند کر لی گئیں۔ اب شیشہ کے باہر درخت زور زور سے ہلتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ شاخیں ٹوٹ ٹوٹ کرگر رہی تھیں۔ کہیں کہیں پورے درخت گرے ہوئے نظر آئے۔ مگر ، ہم گاڑی کے اندر شیشہ کے پیچھے بالکل محفوظ حالت میں بیٹھے ہوئے چلتے رہے۔ اللہ تعالی نے اس دنیا میں اگر طوفان رکھاہے تو اسی کے ساتھ اس نے یہاں ایسے اسباب بھی رکھ دئے ہیں کہ آدمی خارجی طوفان سے محفوظ رہ کر اپنا سفر طے کرسکے۔
۳۰ جولائی کی شام کو ہم لوگ ماؤنٹ آبو پہنچے۔ ماؤنٹ آبو ایک پہاڑی مقام ہے جو ضلع سرو ہی (راجستھان میں واقع ہے۔ اس کا تعلق اراولی سلسلہ کوہ سے ہے۔ ماؤنٹ آبو میں کثرت سے جین مندر اور جین مذہب کی مقدس یادگاریں ہیں۔ یہاں پچھلے دو ہزار سال سے زائرین آتے رہے ہیں۔ ہندوستان کے سنسکرت رزمیہ مہابھارت میں بھی اس کا تذکرہ آر بوده کے نام سے موجود ہے جس کے معنی مقام دانش کے، ہوتے ہیں۔
ماؤنٹ آبو ایک مشہور پہاڑی تفریح گاہ ہے۔ یہاں ایک خاص طرح کا جین مندر ہے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues