سفر نامہ راجستھان - ۴
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۸
جو پور سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مندر ۱۲۰۰ء کے لگ بھگ بنایا گیا تھا۔ ماؤنٹ آلو کی سیاسی اہمیت اس وقت ہوئی جب انگریزی حکومت کے زمانہ میں "برٹش راجپوتانہ اسٹیٹس ایجنسی" یہاں قائم کی گئی۔ اس کی آبادی تقریباً پندرہ ہزار ہے۔ ہندوستان میں جو مختلف مذہبی اور روحانی تنظیمیں ہیں، ان میں سے ایک تنظیم کا نام برہما کماری ہے۔ اس کے بانی دادا لیکھ راج (وفات ۱۹۶۹ء) ہیں۔ وہ حیدر آباد (سندھ) میں ہیرے کے تاجر تھے۔ ان کے پیروؤں کا عقیدہ ہے کہ شیو دیوتا دادا لیکھ راج کے اندر حلول کر گیا۔ اس کے بعد انھوں نے تجارت چھوڑ دی اور مذہبی اور روحانی تبلیغ میں لگ گئے۔ برہما کماری مشن کا ہیڈ کوارٹر ماؤنٹ آلو کی چوٹیوں پر ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں اس کی ۱۸۰۰ شاخیں قائم ہیں۔ یہ ایشیا کی واحد مذہبی تنظیم ہے جس کو اقوام متحدہ میں مشاورتی درجہ (Consultative Status) دیا گیا ہے۔ برہما کماری مشن سے وابستہ افراد تجرد کی زندگی گزارتے ہیں۔ وہ گوشت نہیں کھاتے۔ شراب اور دوسری نشہ کی چیزوں سے مکمل پر ہیز کرتے ہیں۔
اس تنظیم کے تصویری میوزیم ۵۲ ملکوں میں قائم ہیں جن کو وہ لوگ خدائی میوزیم (Godly Museum) کہتے ہیں۔ یہاں ہر روز صبح کو راجا یوگا کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ لوگ شیو کو پوجتے ہیں۔ ناخوشگوار موسم کے باوجود یہاں کافی چہل پہل نظر آئی۔ ان کے نظریات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے میں نے ان کے اندر ایک زندگی دیکھی جو عام طور پر ہمارے اداروں میں نظر نہیں آتی۔ اس ہیڈ کوارٹر کے تحت ایک اسپر چول یونیورسٹی ہے جس میں دو ہزار طالب علم رہتے ہیں۔ روزانہ تقریباً ایک ہزار آدمی اس کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ وسیع پیمانہ پر لوگوں کو مفت کھانا کھلانے کا انتظام ہے۔ صاف ستھرے ہالوں میں نہایت صاف ستھرا اور بہترین کھانا کھلایا جاتا ہے۔ وسیع رقبہ میں اس کے مختلف شعبے نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ کارکنوں کی ایک پوری فوج پورے نشاط اور انہماک کے ساتھ ہر وقت اپنے کاموں میں مصروف رہتی ہے۔ مگر سب کے سب بے معاوضہ ہیں۔ تمام کام مشن کے عورتیں اور مرد رضاکارانہ طور پر انجام دیتے ہیں جو تقریباً سب کے سب تعلیم یافتہ ہیں۔ اور اکثر خوش حال گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۳۱ء
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues