سفر نامہ راجستھان - ۴
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۹
جولائی کو جب میں نے اس مشن کو دیکھا ، اس وقت میرے ساتھ چار آدمی اور بھی تھے۔ برہماکماری مشن کے سنٹر میں میں نے جو کچھ دیکھا اور وہاں کے ذمہ داروں سے جو باتیں ہوئیں ، اس کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ ان شاء اللہ آئندہ کسی وقت اس کو تحریر کیا جائے گا۔ میرا احساس یہ ہے کہ ہندوستان کی کئی مذہبی تحریکیں، جن میں برہماکماری اور سکھ دھرم شامل ہیں، ہندو ازم اور اسلام کے بیچ میں ایک درمیانی راہ نکالنے کی کوشش تھی۔ مگر اس کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ ان کو نہ ہندو ازم ملا اور نہ اسلام۔
ٹرین میں ادھیڑ عمر کا ایک ہندو جوڑ اتھا۔ بظاہر وہ خوش حال گھرانے کے افراد تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ برہماکماری سے تعلق رکھتے ہیں اور ماؤنٹ آ بو جا رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ شادی کے بعد وہ لوگ برہماکماری تحریک سے متاثر ہوئے۔ چنانچہ ۲۵ سال سے وہ بہن بھائی کی طرح رہ رہے ہیں۔ انھوں نے پھر کبھی ازدواجی تعلق قائم نہیں کیا۔
عورت اور مرد کے درمیان ازدواجی تعلق فطرت کے عین مطابق ہے اور اس کے مقابلہ میں تجرد فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو اسلام میں غلو کہا گیا ہے۔ مذہب کی تاریخ بتاتی ہے کہ انسان فطری اور معتدل قسم کی مذہبی زندگی کی طرف کم رغبت کرتا ہے۔ اس کے بجائے غلو والی مذہبی زندگی میں اس کے لئے بڑی کشش ہے۔ جو لوگ اس پر عمل نہیں کرتے، وہ بھی کم از کم ذہنی طور پر اس کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔
اس کی وجہ حقیقۃ مذہب پسندی نہیں بلکہ ظاہر پسندی ہے۔ غلو ہمیشہ ان چیزوں میں ہوتا ہے جو دکھائی دیتی ہیں۔ ظاہری اور مقداری چیزوں میں اضافہ ہی کا نام غلو ہے۔ خود مسلمانوں میں فضائل کی موضوع روایتیں اور بزرگوں کے بارہ میں فرضی قصے تمام ترکیاتی چیزوں میں مبالغہ سے تعلق رکھتی ہیں نہ کہ کیفیت والی چیزوں میں مبالغہ سے۔ حقیقت یہ ہے کہ " فارم " کو اہمیت دینے کا نام غلو ہے، اور " اسپرٹ " کو اہمیت دینے کا نام سچی مذہبیت۔
۳۱ جولائی کو۔ انجے ماؤنٹ آ بو کی نکی جھیل دیکھی۔ پہاڑ کے اوپر پانی کے بڑے بڑے ذخیرے جو اکثر بلندیوں پر دکھائی دیتے ہیں، وہ قدرت کا حیرت ناک معجزہ ہیں۔ اس جھیل کے انز سمت میں ایک پختہ قبر ہے۔ یہ قبر احسان علی صاحب کی ہے۔ وہ لکھنؤ کے رہنے والے تھے۔ ۱۸۵۷ کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues