I am 8th class reading.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۰
”غدر“ میں وہ یہاں آئے۔ اس وقت راجپوتانہ کا انگریز ریزیڈنٹ سر ہنری لارنس یہاں رہتا تھا۔ احسان علی صاحب نے لارنس کے لڑکے پر گولی چلا دی۔ مگر گولی اس کے پاؤں میں لگی۔ وہ بچ گیا۔
احسان علی صاحب ایک جھاڑی میں چھپے ہوئے پڑے لائے گئے۔ انہیں گولی مار دی گئی۔ اس کے بعد ان کی لاش شاہراہ عام پر لٹکا دی گئی۔ وہ تین روز تک وہاں لٹکی رہی۔ اس کے بعد تدفین عمل میں آئی۔ یہ قبر آج تک جھیل کے کنارے موجود ہے اور اس پر ”احسان علی شاہ“ کا کتبہ لگا ہوا ہے۔ دین ِوطنیت کی اصطلاح میں وہ ایک فریڈم فائٹر تھے۔ میرے نزدیک زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ ان کی قبر پر فریڈم فائٹر کا کتبہ لگایا جائے نہ کہ احسان علی شاہ کا۔
ماؤنٹ آبو پر مجھے ایک بلڈنگ میں لے جایا گیا۔ یہاں ۱۹۸۵ء سے ”اقبال ہوسٹل“ قائم ہے۔ اس میں زیر تعلیم بچوں کے لئے بورڈنگ اور لاجنگ کا انتظام ہے۔ یہ بچے انگریزی اسکولوں میں پڑھتے ہیں اور یہاں قیام کرتے ہیں۔ انگریزی تعلیم کے ساتھ ان کے لئے قرآن (ناظره) پڑھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ میں نے مشورہ دیا کہ اس کے ساتھ اردو بھی پڑھانا چاہئے کیونکہ موجودہ حالات میں ان کو دین سے باخبر رکھنے کے لئے دوسرا کوئی ذریعہ نہیں۔
میں نے ایک گجراتی طالب علم اسماعیل گھانچی گھانچی(۱۴ سال) سے بات کی۔ وہ ذہین نظر آیا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کس کلاس میں پڑھتے ہیں۔ اس نے کہا آٹھویں کلاس میں۔ اپنے اسکول کا نام اس نے روٹری اسکول (Roatry Integrated School) بتایا۔ میں نے کہا کہ اس بات کو انگریزی میں کہئے کہ میں آٹھویں درجے میں پڑھتا ہوں۔ اس نے جواب دیا: I am studying in 8th standard. اسی قسم کا ایک واقعہ کسی قدر مختلف شکل میں شیو گنج میں پیش آیا۔ وہاں میری ملاقات ایک مسلمان طالب علم سے ہوئی جو ”میونسپل اسکول“ میں پڑھتا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ آٹھویں کلاس کا طالب علم ہے۔ میں نے کہا کہ اس بات کو انگریزی میں کہئے کہ میں آٹھویں کلاس میں پڑھتا ہوں۔ دیر تک سوچنے کے بعد بچے نے جو الفاظ کہے وہ یہ تھے :
I am 8th class reading.
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues