Al-Risala · December 1989 · page 41

I am 8th class reading.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۱

کتنا فرق ہے ایک اسکول میں اور دوسرے اسکول میں۔

محمد افضل صاحب (۴۸ سال)، ماؤنٹ آبو میں انگریزی اسکولوں کے بچوں کا ہوسٹل چلاتے ہیں ۔ ان کے کئی اور بھی کام ہیں۔ اں پہلی بار ان سے ملاقات اور واقفیت ہوئی ۔ وہ نہایت سمجھدار اور با اثر آدمی ہیں۔ معاملات کی نبض پر کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا: اگر ہم کسی سے نفرت نہ کریں تو کوئی ہم سے بھی نفرت نہیں کرے گا۔ اس علاقہ کے بعض اختلافی معاملات ان کے سامنے لائے گئے اور انھوں نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ ان کو ختم کرادیا۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسا معاملہ نہیں جس کو خوش تدبیری سے حل نہ کیا جاسکے۔

محمد افضل صاحب سے ملاقات کے بعد میری ایک تجویز دوبارہ مجھے یاد آگئی جو برسوں سے میرے ذہن میں ہے۔ یہ تجویز قرآن (النساء ۸۳) پر غور کرنے سے سمجھ میں آئی ہے۔ وہ یہ کہ فساد کے معاملہ میں مسلمان ہر جگہ کچھ صاحب فہم اور صاحب اثر افراد کو اپنا ذمہ دار بنالیں۔ جب بھی کسی مقام پر دونوں فرقوں میں تناؤ اور اختلاف کی صورت میں پیدا ہو اور فساد کا اندیشہ ہو تو خود لڑائی چھیڑنے کے بجائے وہ صرف یہ کریں کہ ملاقات یا ٹیلیفون کے ذریعہ فوری طور پر ان ذمہ دار افراد کو اس کی اطلاع دیں۔ اس کے بعد خود کچھ نہ کریں بلکہ معاملہ کو ان کے حوالے کرنے کے بعد وہ مکمل طور پر خاموش ہو جائیں۔ مسلمان اگر ایسا کریں یہ تو یقینی ہے کہ یہ افراد معاملہ کو ختم کرنے میں پوری طرح کامیاب ہو جائیں گے۔ اس ملک سے فساد کا خاتمہ ہو جائے گا۔

اس سفر میں ایک اور تجربہ ہوا۔ راجستھان میں اگرچہ جگہ جگہ لوگ فساد کے اسباب پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہ چاہتے ہیں کہ اس امن پسند ریاست میں ہندو مسلم نفرت کا ماحول پیدا ہو جائے ۔ مگر میں نے اپنے سفر کے دوران کئی ایسی مثالیں دیکھیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ مسلمان اگر با ہوش ہو جائیں تو فرقہ پرست عناصر کی ہر تخریبی کوشش یقینی طور پر ناکام ثابت ہوگی۔ مثلاً فالنا میں ایک مسلمان ہیں جو جی ٹیلی ویژن کا کچھ سامان بناتے ہیں۔ ان کا سامان دوسرے بنانے والوں کے مقابلہ میں نمایاں طور پر بہتر ہوتا ہے۔ چنانچہ دوسروں کے مقابلہ میں وہ اپنی مصنوعات کی قیمت بھی زیادہ لیتے ہیں۔ مگر حال یہ ہے کہ ان کے یہاں خریداروں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ اور یہ تقریباً سب کے سب ہندو ہوتے ہیں۔ ہندوؤں کو ان سے کوئی شکایت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page