I am 8th class reading.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۲
اسی طرح آبو روڈ میں ایک مسلمان ہیں جن کے یہاں سلائی (ٹیلرنگ) کا کام ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف اچھا کام کرکے دیتے ہیں بلکہ سلوک کے اعتبار سے بھی نہایت خوش اخلاق آدمی ہیں۔ ان کے گاہکوں میں ۹۵ فیصد تعداد ہندوؤں کی ہوتی ہے۔ مقامی ہندو عام طور پر ان کے ساتھ عزت اور محبت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔
پالی میں چند مسلمان ہیں جو گھروں میں پینٹنگ کا کام کرتے ہیں۔ یہ سیدھے سادے لوگ ہیں اور اپنا کام ہمیشہ محنت اور دیانت داری کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ ان کا کام بھی زیادہ تر ہندوؤں کے مکانات میں ہوتا ہے۔ اور وہ لوگ ان کی بہت زیادہ قدر کرتے ہیں۔
اس طرح کی انفرادی مثالیں ہر شہر اور ہر بستی میں پائی جاتی ہیں۔ ہر جگہ ایسا ہے کہ کچھ مسلمان اپنے کام اور اپنے اخلاق کی وجہ سے ہندؤوں کے درمیان با عزت بنے ہوئے ہیں۔ یہ مثالیں واقعات کی زبان میں بتاتی ہیں کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا حل کیا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ مسلمان اچھے عمل اور اچھے اخلاق والے انسان بن جائیں۔ اس کے بعد ان کے تمام مسائل اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ یہ طریقہ ان کی اپنی ذات کے لئے بھی مفید ہے اور پوری قوم کے لئے بھی۔
یہ ماؤنٹ آبو کے ہوٹل سن راک (Sun Rock) کا کمرہ ہے۔ میں سطح سمندر سے ۴ ہزار فٹ کی بلندی پر بیٹھا ہوں۔ تیز ہوا چل رہی ہے۔ شیشہ کے اُس پار تمام درخت ہلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سورج گہرے بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔
یہاں دہلی ، بمبئی اور کلکتہ والی کثیف ہوا نہیں ہے۔ پورا ماحول اس برائی سے خالی ہے جس کو فضائی کثافت (Air Pollution) کہا جاتا ہے۔ تازہ اور صاف ہوا کے جھونکے چاروں طرف آکسیجن بکھیر رہے ہیں۔ مگر ہوٹل کے اندر بند کمرے کی ہوا باہر کی ہوا سے مختلف ہے۔ یہاں وہ فرحت بخش ہوا نہیں جو باہر افراط کے ساتھ موجود ہے۔
ہوٹل کے بند کمرے میں سکون ہے مگر فرحت بخش ہوا کے جھونکے نہیں۔ باہر فرحت بخش ہوا کے جھونکے ہیں مگر وہاں سکون کے لمحات نہیں۔ یہی اس دنیا میں زندگی کا معاملہ ہے۔ اگر آپ تازہ ہوا لینا چاہتے ہیں تو آپ کو طوفان کی زد میں آنا پڑے گا۔ اور اگر آپ طوفان سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو یہ صرف اس قیمت پر ہوگا کہ آپ تازہ ہوا میں سانس لینے سے محروم رہ جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues