Al-Risala · December 1989 · page 43

I am 8th class reading.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۳

ماؤنٹ آبو کی اہمیت کو انگریزوں نے ڈیڑھ سو سال پہلے سمجھ لیا تھا۔ چنانچہ ۱۸۳۶ء میں راجستھانہ کے انگریز ریزیڈنٹ نے ماؤنٹ آبو کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا۔ اس کے بعد اس علاقے کے تمام راجاؤں نے یہاں اپنی اپنی کوٹھیاں بنانی شروع کر دیں۔

مگر سلمان دور جدید سے عدم واقفیت کی بنا پر "ماؤنٹ آبو" کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلیں کہ ماؤنٹ آبو کی بیشتر زمینیں مسلمانوں کی تھیں۔ مگر مسلمانوں نے نہایت معمولی قیمتوں پر اپنی زمینیں غیر مسلموں کے ہاتھ فروخت کر دیں۔ میں نے بعض زمینیں دیکھیں جو مسلمانوں نے " ہزاروں " روپیہ میں بیچی تھیں وہ آج " کروڑوں " روپیہ کی ملکیت ہیں۔ کئی مسلمانوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی فضول خرچی کی بہت پر قرضوں میں پھنس گئے اور قرض اتارنے کی خاطر قیمتی زمینوں کو نہایت معمولی دام میں فروخت کر دیا۔

ایک صاحب نے کہا کہ راجپوتان کے شہروں اور قصبوں کی دیواروں پر آجکل مسلم مخالف نعرے لکھے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کو مسلم مخالف نعرے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر مجھے تو ہر جگہ یہ لکھا ہوا نظر آتا ہے:

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا۔

میں ۳۰ جولائی کی شام کو ماؤنٹ آبو پہنچا تو ایک شخص نے کہا کہ یہاں دیکھنے کی سب سے زیادہ خاص تاریخی چیز دیل واڑہ مندر ہے۔ اس کے کاریگروں نے " پتھر کو کاغذ بنا دیا "۔ ۳۱ جولائی کو دیل واڑہ مندر دیکھا۔ یہ جینی فرقہ کا مندر ہے۔ ۱۰۳۱ء میں راجہ بھیم دیو گجرات) کے وزیر اور کمانڈرویمل شاہ نے اس کو مکمل کرایا۔ اس کی تعمیر میں ۸ ایکڑ و ۵۳ لاکھ روپیہ کی لاگت آئی۔ ۱۵۰۰ کاریگروں اور ۱۲۰۰ مزدوروں نے ۱۴ سال تک کام کر کے اس کو مکمل کیا۔ یہ معلومات مندر کے دروازہ پر ایک کتبہ میں درج ہیں۔

پورا مندر تصویری نقاشی سے بھرا ہوا ہے۔ اس میں صناعی کا کمال ضرور ہے مگر اس میں تاج محل والی سادگی نہیں۔ اس سے محظوظ ہونے کے لئے دو میں سے ایک چیز ضروری ہے ـــــ تصویر پسندی یا بت پرستی۔ فطری سادگی کا ذوق رکھنے والا آدمی اس سے محظوظ نہیں ہو سکتا۔ ۳۱ جولائی کو عصر کی نماز آبوروڈ کی ایک مسجد میں پڑھی۔ میں نے پوچھا کہ اس مسجد کا نام کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page