I am 8th class reading.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۴
لوگوں نے بتایا کہ "چھوٹی مسجد"۔ میں نے کہا کہ یہ تو اچھی خاصی بڑی مسجد ہے۔ معلوم ہوا کہ پہلے وہ کافی چھوٹی تھی ۔ تعمیر ثانی میں اس کی توسیع ہوئی۔ مگر نام وہی "چھوٹی مسجد" باقی رہا۔ اس دنیا کا نظام بھی عجیب ہے۔ یہاں کبھی چھوٹی چیز کو بڑا کہتے ہیں اور کبھی بڑی چیز کا نام چھوٹا رکھ دیتے ہیں۔ ۳۱ جولائی ۱۹۸۹ کی شام کو آশرم ایکسپریس سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ آبرو ڈ میں اپنے ڈبہ میں داخل ہوا تو اس کے اندر دو ہندو موجود تھے۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا "آپ کیا کام کرتے ہیں؟ " اس نے جواب دیا میری ریڈی میڈ کپڑوں کی دکان ہے۔ دوسرا بولا "اچھا میں تو ریڈی میڈ کپڑے تیار کراتا ہوں ۔ " اس کے بعد دونوں میں وزٹنگ کارڈ کا تبادلہ ہوا، اور دونوں کے درمیان اپنے کاروبار کی باتیں ہونے لگیں۔
میں نے سوچا کہ عام لوگوں کے لئے باہم تعلق قائم کرنا بہت آسان ہے۔ کیوں کہ وہ سب ایک دنیا کے مسافر ہیں۔ وہ بہت جلد گفت گو اور تعلق کی مشترک بنیاد پا لیتے ہیں، اس کے مقابلے میں ایک سچے مومن اور سچے داعی کے لئے تعلق قائم کرنا بے حد مشکل کام ہے۔ کیوں کہ وہ لوگوں کے درمیان ایک غریب را جنبی شخص ہوتا ہے۔ دوسرے لوگوں میں کسی خاص کوشش کے بغیر باہم تعلق قائم ہو جاتا ہے ۔ جب کہ داعی اور مصلح کو تعلق قائم کرنے کے لئے یک طرفہ طور پر خصوصی اسباب جمع کرنے پڑتے ہیں۔ دوسرے لوگ جس چیز کو کسی غیر معمولی جد و جہد کے بغیر پا لیتے ہیں، وہ داعی کو غیر معمولی جد و جہد کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ اسی کا نام صبر ہے۔
صبر دعوت کی قیمت ہے۔ جو شخص صابر نہ ہو، وہ داعی بھی نہیں بن سکتا۔
(الرساله (ہندی)
ماہنامہ الرسالہ کا ہندی ایڈیشن نکالنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ انشاء اللہ بہت جلد پہلا شمارہ منظر عام پر آ رہا ہے ۔ صاحبانِ دلچسپی اپنی مطلوبہ تعداد سے مطلع فرمائیں۔ فی شمارہ پانچ روپیہ [ ] سالانہ زر تعاون ساٹھ روپیہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues