Al-Risala · February 1989 · page 16

یقینی حل

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۶

اصل یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ (Competition) کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک دوڑ رہا ہے۔ ہر ایک دوسرے کا پیچھا کر کے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں لازما ٹکراؤ کے مواقع پیش آتے ہیں۔ مذکورہ قانون فطرت کی بنا پر وہ ہمیشہ اور ہر جگہ پیش آئیں گے خواہ وہ دسویں صدی ہو یا بیسویں صدی، خواہ وہ ہندوستان ہو یا پاکستان۔ غرض کہیں بھی مقابلہ اور مسابقت کی یہ حالت ختم ہونے والی نہیں۔ ہم مقابلہ کی حالت کو ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ ہم اپنے آپ کو اس کی زد سے بچا سکتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو اس سے بچانے کا واحد نسخہ وہی ہے جس کو قرآن میں اعراض (Avoidance) کہا گیا ہے۔

ہندوستان کے ہندو فرقہ پرستوں نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ مسلمانوں کی ایک کمزوری دریافت کر رکھی ہے۔ یہ کمزوری ہے ان کا مشتعل کے موقع پر اشتعال ہو جانا۔ جن مواقع پر قرآنی حکم کے مطابق اعراض کرنا چاہیے وہاں دوسروں سے الجھ جانا۔ یہ گویا مسلمانوں کا کمزور مقام (Vulnerable point) ہے۔ اسی کمزور مقام سے فریق ثانی ان پر حملہ کرتا ہے اور مسلمانوں کی بے شعوری کی بنا پر ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔

ایک واقعہ

ایک صاحب نے ایک شہر کا واقعہ بتایا جو ۱۹۸۸ میں پیش آیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے شہر میں ہندو فرقہ پرست عناصر نے تین روزہ جلسہ کیا۔ اس میں ایک بہت بڑا بک اسٹال بھی رکھا گیا تھا۔ اس اسٹال پر دوسرے دل آزار لٹریچر کے ساتھ ستیارتھ پرکاش اور رنگیلارسول جیسی کتابیں بھی رکھی گئیں۔ مسلمانوں نے ان کتابوں کو دیکھا تو ان کے اندر سخت غصہ اور اشتعال پیدا ہوا۔ انھوں نے فوراً ایک جوابی جلسہ کیا جس میں تقریباً ۵ ہزار مسلمان شریک ہوئے ۔ مقررین نے پرجوش تقریریں کیں۔ پورا مجمع غصہ اور اشتعال سے بھر گیا ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ یہاں سے اٹھ کر سیدھے ہندوؤں کے اجتماع میں جائیں گے اور وہاں شامیانہ کو توڑیں گے اور کتابوں کو جلا ڈالیں گے۔ عین اس وقت ایک سنجیدہ مقرر اسٹیج پر آیا اس نے ایک تقریر کی ۔ یہ تقریر نہایت کامیاب ثابت ہوئی۔ یہ تقریر مسلمانوں کے مجمع پر ٹھنڈی بارش بن کر برسی ۔ اور ہندو اجتماع کے لیے ایک ایسا شعلہ ثابت ہوئی جس نے براہ راست مداخلت کے بغیر ان کے سارے منصوبے کو خاک میں ملا دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page