یقینی حل
الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۷
مقرر نے کہا کہ اپنی بات کو میں علامہ اقبال کے ایک لطیفے سے شروع کرتا ہوں۔ اس لطیفے کو اگر آپ اچھی طرح سمجھ لیں اور اس سے واقعۂ سبق لے سکیں تو وہ آپ کے لیے اس قسم کے تمام فسادات اور شرارتوں کا تیر بہدف علاج ہے۔
لاہور میں علامہ اقبال کے محلہ میں زیادہ عمر کے ایک صاحب تھے جو اکثر علامہ اقبال سے ملنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ ایک روز انھوں نے پوچھا کہ چڑھونی کی حقیقت کیا ہے۔ کیسے ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ایک لفظ (مثلاً کریلا) سے چڑھنے لگے۔ علامہ اقبال نے اس سوال کا کوئی براہ راست جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وہ صاحب واپس چلے گیے۔
اگلے دن علامہ اقبال نے اپنے ملازم کو ان صاحب کے گھر یہ کہہ کر بھیجا کہ جاؤ ان سے آم کا اچار مانگ لاؤ۔ ملازم نے جا کر ان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ نکلے تو اس نے کہا کہ علامہ اقبال نے آم کا اچار مانگا ہے۔ انھوں نے یہ کہہ کر ملازم کو رخصت کر دیا کہ میرے پاس آم کا اچار نہیں ہے۔ دو گھنٹہ کے بعد علامہ اقبال نے دوبارہ ملازم سے کہا کہ ان کے یہاں جاؤ اور آم کا اچار مانگ لاؤ۔ ملازم گیا اور دوبارہ ان کو علامہ اقبال کا پیغام پہنچایا۔ انھوں نے کسی قدر تیزی کے ساتھ کہا کہ میں نے تم کو بتا دیا کہ میرے پاس آم کا اچار نہیں ہے۔ علامہ اقبال ہر دو گھنٹہ کے بعد اس آدمی کو مذکورہ صاحب کے پاس آم کا اچار مانگنے کے لیے بھیجتے رہے اور ملازم ہر بار سخت تر لہجہ میں مذکورہ صاحب کا جواب لے کر واپس آتا رہا۔
یہاں تک کہ آخری بار جب ملازم ان کے یہاں گیا تو ان کی شدت غصہ میں تبدیل ہوگئی۔ انھوں نے آستین چڑھا کر ڈنڈا اٹھایا اور ملازم کو مارنے کے لیے دوڑے ۔ اب ملازم آگے آگے بھاگ رہا ہے اور وہ صاحب ڈنڈا لیے ہوئے اس کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔
محلہ کے لڑکوں نے جب یہ منظر دیکھا تو ان کو تجسس پیدا ہوا کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے۔ پوچھ کچھ کرنے کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ یہ آم کے اچار کا قصہ تھا۔ اب "آم کا اچار" مذکورہ صاحب کی چڑھونی بن گئی۔ اور محلہ کے لڑکوں کو بھی ایک دلچسپ مشغلہ ہاتھ آگیا۔ وہ صاحب جب بھی گھر سے باہر نکلتے، لڑکے ان کے پاس آکر کہتے " آم کا اچار"۔ یہ کہہ کر لڑکے بھاگتے اور وہ بزرگ لڑکوں کے پیچھے دوڑتے۔ آخر تنگ آکر انھوں نے یہ کیا کہ وہ ڈنڈا لے کر باہر نکلنے لگے۔ جب بھی وہ گھر سے نکلتے ان کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues