Al-Risala · February 1989 · page 18

یقینی حل

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۸

ضرور ہوتا۔ لڑکے آم کا اچار کہہ کر بھاگتے اور یہ ڈنڈا اٹھائے ہوئے ان کے پیچھے دوڑتے ۔ اسی حالت میں ایک روز ایسا ہوا کہ تیز بھاگتے ہوئے وہ ایک گڑھے میں گر پڑے اور ان کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ مہینوں کے علاج کے باوجود ان کی ہڈی درست نہ ہوسکی ۔ جس ڈنڈے سے انہوں نے لڑکوں کو مارنے کے لیے بنایا تھا ۔ وہ ان کی سہارے کی لاٹھی بن گئی جس کو ٹیک کر وہ چلتے تھے۔ وہ اسی حالت پر باقی رہے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ۔

مقرر نے مسلمانوں کے مذکورہ جلسہ میں جب یہ لطیفہ سنایا تو مسلمانوں کا جوش اچانک ہنسی میں تبدیل ہو گیا ۔ مقرر نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ فریق ثانی نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ کچھ چیزوں کو ہماری چڑھونی بنا لیا ہے ۔ مثلاً خاص طرح کے نعرے لگانا ، خاص طرح کے مضامین شائع کرنا ، وغیرہ وہ لوگ ہم کو چڑھاتے ہیں اور ہم چڑھ جاتے ہیں۔ اگر ہم شعوری طور پر اس بات کو جان لیں کہ فریق ثانی جو کچھ کرتا ہے وہ دراصل چڑھونی کا معاملہ ہے اور چڑھونی کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ اگر چڑھے تو وہ چڑھونی ہے ، اور اگر نہ چڑھے تو اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔ وہ ایسا پٹاخہ ہے جو پھسہ سا کر رہ گیا۔

میں مسلمانوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ یہ طے کر لیں کہ فریق ثانی خواہ آپ کو کتنا ہی چڑھائے اور خواہ کیسی ہی چڑھونی آپ کے خلاف استعمال کرے ، آپ کسی حال میں بھی نہیں چڑھیں گے۔ آپ ہمیشہ ایسی چیزوں سے اعراض کر کے گزر جائیں گے ۔ اگر آپ ایسا کریں تو یقینی ہے کہ فسادات کی ساری عمارت دھڑام سے گر جائے گی ۔

فسادات کے خلاف اس تیر بہدف نسخہ کا پہلا کامیاب تجربہ خود مذکورہ شہر میں ہوا۔ وہ مسلمان جو اپنے جلسہ گاہ سے اٹھ کر فریق ثانی کے جلسہ میں جاتے ۔ وہاں ان کی کتابوں کو جلاتے اور پھر زیادہ بڑے پیمانے پر خود جلائے جاتے ، ان کا موڈ بالکل بدل گیا۔ ایک کہانی جو المیہ پر ختم ہوتی وہ اچانک طربیہ کی صورت میں بدل گئی۔

اس کے بعد مسلمان ٹھنڈے ہو کر سیدھے اپنے گھروں کو چلے گئے ۔ مسلمانوں کا اس طرح لوٹنا فریق ثانی کے جلسہ پر بجلی بن کر گرا۔ مسلمانوں نے ان کی کتابوں سے کوئی دل چسپی نہیں لی اور جہاں تک ہندوؤں کا تعلق ہے ، وہ پہلے ہی اس کو خریدنے والے نہ تھے۔ ان کا وسیع پنڈال بھی آدمیوں سے خالی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page