Al-Risala · February 1989 · page 20

ذہنی فاصلہ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۲۰

ذہنی فاصلہ

قرآن کی سورہ ہود میں حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر ہے۔ وہ حضرت ابراہیم کی نسل سے تھے جو غالباً حضرت ابراہیم کے سو سال بعد پیدا ہوئے ۔ ان کے مخاطب مدین کے لوگ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اہل مدین قدیم زمانہ میں بحر احمر کے عرب ساحل پر آباد تھے۔ پیغمبر کا انکار کرنے کے بعد وہ ایک شدید زلزلہ میں تباہ کر دیئے گئے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت شعیب نے جب اپنی قوم کو خدا کے دین کی دعوت دی تو انھوں نے کہا کہ اے شعیب، جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس کا بہت سا حصہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ (قالوا يا شعيب ما نفقه كثيرا مما تقول (ھود (۹۱) حضرت شعیب علیہ السلام کو حدیث میں خطیب الانبیاء کہا گیا ہے (روح المعانی)، آپ واضح اور مؤثر انداز میں کلام کرنے کی خصوصی صلاحیت رکھتے تھے۔ مزید یہ کہ آپ کے مخاطب ( اہل مدین) حضرت ابراہیم کو مانتے تھے۔ ان کا سلسلہ نسب چوتھی پشت میں حضرت ابراہیم سے مل جاتا تھا۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ حضرت شعیب نے جب دین توحید کی بات ان کے سامنے پیش کی تو انھوں نے کہہ دیا کہ تمہاری بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔

اس کی وجہ تھی کہ کئی نسل گزرنے کے بعد وہ حضرت ابراہیم کی اصل تعلیمات سے دور ہو چکے تھے۔ ان کی سوچ وہ نہ رہی تھی جو خدا کے پیغمبروں کی سوچ ہوتی ہے۔ اس طرح حضرت شعیب اور اہل مدین کے درمیان ایک قسم کا ذہنی فاصلہ (Intellectual gap) پیدا ہو چکا تھا۔ یہی چیز تھی جو ان کے لئے پیغمبر کی بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بن گئی۔ جو لوگ غیر اللہ کی بڑائی میں جی رہے ہوں وہ اللہ کی بڑائی والی باتوں میں اپنی ذہنی غذا نہیں پاتے۔ جو لوگ دنیا کے فائدوں میں کھوئے ہوئے ہوں انھیں آخرت کے فائدہ کی بات بالکل اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ جو لوگ صرف اپنی عقل سے سوچنا جانتے ہوں وہ وحی کی رہنمائی کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ جو لوگ قریب کی صرف چھوٹی مصلحتوں کو دیکھ پاتے ہوں، وہ ان عظیم تر مصلحتوں کو دیکھنے سے عاجز رہ جاتے ہیں جو مستقبل بعید کے پردہ میں چھپی ہوئی ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page