Al-Risala · February 1989 · page 22

قال اللہ، قال الرسول

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۲۲

قال اللہ، قال الرسول

قرآن میں منکرین حق کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ ــــــــ اور انھوں نے شروع کیا تم سے پہلی بار (وَھُم بَدَءُ اکم اَوَّلَ مَرَّةٍ ، التوبہ (۱۳) مفسرین نے اس کی تشریح میں یہ قول نقل کیا ہے کہ البادئ اظلم (شروع کرنے والا زیادہ ظالم ہے )

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

عن ابی ھریرۃ ، قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم اذا قلت لصاحبک يوم الجمعة انصت علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن تم اپنے ساتھی والامام يخطب فقد لغوت سے کہو کہ چپ رہو جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو (متفق عليه) تو تم نے لغو کام کیا۔

قرآن کی مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دو آدمی آپس میں لڑجائیں تو ان میں سے جس شخص نے ٹکراؤ میں پہل کیا ہے ، وہ زیادہ بڑا ظالم قرار پائے گا۔ اجتماعی زندگی میں اختلاف یا شکایت کے مواقع آتے ہیں۔ مگر ایسے مواقع پر آدمی کو پرامن تدبیر پر رکے رہنا ہے۔ اس کے لیے کسی حال میں یہ جائز نہیں کہ وہ حد کو پار کر کے ٹکراؤ اور تصادم کے میدان میں داخل ہوجائے۔ اوپر جو حدیث نقل کی گئی، اس سے ایک اور اسلامی اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر ایک آدمی غلطی کر بیٹھے تو دوسرے آدمی کو چاہیے کہ وہ اس سے اعراض کرے، وہ ہرگز نہ جوابی غلطی نہ کرے ۔ جوابی غلطی ، ایک غلطی کو دو غلطی بنا دیتی ہے ۔ وہ اس برائی میں مزید اضافہ کر دیتی ہے جس کو برداشت نہ کر کے اس کے خلاف اقدام کیا گیا تھا۔

یہ خدا اور رسول کا حکم ہے۔ اس کے مطابق آدمی کو پہلی غلطی سے بھی بچنا ہے اور دوسری جوابی غلطی سے بھی ۔ کیوں کہ پہلی غلطی کرنے والا اگر ظالم ہے تو دوسری غلطی کرنے والا لائی ۔ اس دنیا میں سب سے بڑا ظلم کرنے والا وہ ہے جو جارحیت کا آغاز کرے۔ اور سب سے زیادہ لغو کام کرنے والا وہ ہے جو ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کرے۔ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کو ظلم سے بھی بچنا ہے اور لغو کام کرنے سے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page