Al-Risala · February 1989 · page 23

قال اللہ، قال الرسول

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۲۳

اسلام اولاً فساد کی پہل کرنے والوں کو روکتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص پہلی نادانی کر بیٹھے تو اسلام کا تاکیدی حکم یہ ہے کہ فریقِ ثانی ہرگز دوسری نادانی نہ کرے ۔

ہندوستان میں ہولی کے دن ایک ہندو کچھ مسلمانوں کے اوپر رنگ ڈال دیتا ہے۔ مسلمان مشتعل ہو کر لڑنے لگتے ہیں۔ اور پھر ساری بستی میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑتا ہے۔ پاکستان کے ایک ہوٹل میں کسی مسئلہ پر تکرار ہوتی ہے۔ ایک پٹھان کچھ مہاجرین کے اوپر گرم چائے کی پیالی پھینک دیتا ہے۔ یہ مہاجرین مشتعل ہو کر لڑ پڑتے ہیں۔ اور اس کے بعد پورے شہر میں مہاجر مسلمان اور پٹھان مسلمان کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی ہے۔

ان واقعات میں بلاشبہر فساد کا آغاز کرنے والا ہندوستان میں ہندو اور پاکستان میں پٹھان ہے ۔ مگر قرآن کی رو سے دیکھئے تو دونوں جگہ فساد کو بڑھانے کی ذمہ داری فریق ثانی پر عائد ہوتی ہے۔ ہندوستان میں مسلمان کے اوپر اور پاکستان میں مہاجر کے اوپر۔ کیوں کہ دونوں جگہ فریق ثانی نے یہ کیا کہ فریق اول کے جس واقعہ پر قرآن نے عفو و درگزر کا حکم دیا تھا ۔ اس کو انھوں نے انتقام اور جوابی کارروائی کا عنوان بنایا۔

موجودہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں ہر شخص کو آزادی حاصل ہے۔ اس لیے مذکورہ نوعیت کے چھوٹے چھوٹے واقعات بہ حال ہر جگہ پیش آئیں گے، خواہ وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک ۔ یہ اس تخلیقی منصوبہ کا فطری نتیجہ ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو بنایا ہے۔ اسی لیے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو اعراض کے خانہ میں ڈال دو۔ اس کو اشتعال اور انتقام کا مسئلہ نہ بناؤ۔ اب جو شخص ایسانہ کرے وہ بلاشبہ غلطی پر ہے ۔ کیوں کہ وہ خدا کے نظامِ تخلیق پر راضی نہیں ہوا۔

ہندوستان اور پاکستان میں جو لوگ عفو و درگزر کے اصول کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، وہی لوگ "پٹرو ڈالر" کے ملکوں میں جاکر مبالغہ کی حد تک عفو و درگزر کے اصول کی پابندی کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی نظر میں قرآن کے حکم کی اتنی اہمیت نہیں جتنی اہمیت پٹرو ڈالر کے حکم کی ہے۔ اس سے زیادہ عجیب بات ہے کہ اس کے باوجود یہ لوگ اپنے آپ کو قرآن کا مومن کامل سمجھتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page