Al-Risala · February 1989 · page 25

Hellfire from the heavens

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۲۵

غلطی سے یہ جہاز (تیر) دوسرے جہازوں کے مقام اتصال پر چند سیکنڈ پہلے پہنچ گیا۔ نیز یہ کہ اس جہاز (تیر) کو دوسرے جہازوں کی سطح پرواز سے کسی قدر بلندی پر اڑنا تھا۔ مگر اس کی سطح پرواز مقام اتصال پر عین دہی ہو گئی جو مقابل کے دوسرے جہاز کی تھی ۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ "تیر" فضاسے پار ہونے کے بجائے مقابل کے جہاز سے ٹکرا گیا۔ تین جہازوں میں فوراً آگ لگ گئی۔ عام حالات میں فوجی جہازوں کی یہ غیر معمولی نمائش لوگوں کے اندر زبر دست جوش ومسرت پیدا کرنے کا سبب بنتی۔ مگر مذکورہ حادثہ کے بعد وہ جہنمی لمحات (Hellish mintues) میں تبدیل ہوگئی۔

یہ جہاز رانی کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ بھیانک ہوائی حادثہ تھا۔ تین جہازوں کے پائلٹ اپنے جہازوں کے ساتھ فوراً ہلاک ہوگئے۔ نمائش دیکھنے والوں میں تقریباً ۴۰ آدمی جل کر مر گئے۔ زخمیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ یہ حادثہ اتنا اچانک تھا کہ لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہ بھی کوئی تماشہ ہے۔ ایک شخص نے کہا:

I thought it was just some kind of special effect. اس ہوائی مظاہرے کی تصویریں ٹیلی ویژن پرلی جارہی تھیں۔ چنانچہ شروع سے آخر تک تمام مناظر رنگین تصویروں کی صورت میں ریکارڈ ہوگئے۔ ٹائم کی مطبوعہ تصویروں میں دکھایا گیا ہے کہ جہازوں کے ٹکراتے ہی زبردست آگ لگ گئی۔ جہازوں کے جلتے ہوئے ٹکڑے کھڑی ہوئی کاروں پر گرتے ہیں اور کاریں جلنے لگتی ہیں۔ تماشائیوں کے مجمع کے اوپر آگ سرخ بادل کی طرح امنڈ پڑتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آسمان سے جہنمی آگ کا بہت بڑا گولہ گر پڑا ہو ۔

خوشیاں اچانک غم میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ لوگ بد حواسی کے عالم میں ادھر اُدھر بھاگ رہے ہیں۔ ایک شخص نے کہا کہ۔ میں چیخ پڑاکہ ہائے خدا۔ میں نے اوپر دیکھا تو وہاں آگ کے سوا اور کچھ نہ تھا :

"I yelled, 'Oh, God,' and looked over my shoulder and saw nothing but fire."

یہ ہوائی مظاہرہ انتہائی تربیت یافتہ فوجی پائلٹ انجام دے رہے تھے۔ منتظمین کو ان کی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page