بے خبری
الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۲۷
بے خبری
مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب "آزادی ہند" (India Wins Freedom) کے ۳۰ صفحات مصنف کی وصیت کے مطابق مہر بند کر دیے گئے تھے۔ اب تیس سال پورے ہونے کے بعد وہ چھاپے گئے ہیں۔ ان صفحات میں بتایا گیا ہے کہ جواہر لال نہرو (سابق صدر کانگریس) کی دو غلطیاں بڑی حد تک تقسیم ہند کا سبب بنیں۔
جواہر لال نہرو سے پہلی غلطی ۱۹۳۷ کے الیکشن کے بعد ہوئی۔ یہ الیکشن انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ کے تحت ہوا تھا۔ اس الیکشن میں مسلم لیگ کو پورے ملک میں سخت دھکا لگا تھا۔ صرف دو صوبوں (بمبئی اور یوپی) میں وہ کچھ کامیابی حاصل کر سکی تھی۔ الیکشن کے نتائج سے مسلم لیگ کی علیحدگی پسندی کے رجحان پر زد پڑی۔ اس نے کانگریس کے ساتھ وزارت میں شامل ہونے کی پیش کش کی۔ مسلم لیگ چاہتی تھی کہ اس کے دو لیڈر، چودھری خلیق الزماں اور نواب اسماعیل خاں کو ریاستی کیبنٹ میں لے لیا جائے۔ مگر نہرو نے دونوں میں صرف ایک کو لینے پر رضا مندی ظاہر کی۔ نہرو کی یہ تجویز مسلم لیگ کے لیے قابلِ قبول نہ تھی۔ چنانچہ وہ کانگریس کے قریب آکر دوبارہ اس سے دور ہو گئی۔
جواہر لال نہرو کی دوسری سیاسی غلطی وہ ہے جو انھوں نے ۱۹۴۶ میں کی۔ اس وقت مسلم لیگ اور کانگریس دونوں نے کیبنٹ مشن پلان کے تحت متحدہ ہندوستان کی تجویز کو منظور کر لیا تھا۔ اس طرح مسلم لیگ دوبارہ تقسیم کے نظریہ سے ہٹ کر متحدہ ہندوستان کے نظریہ کے قریب آگئی تھی ۔ مگر نہرو نے صدرِ کانگریس کی حیثیت سے جولائی ۱۹۴۶ میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس میں انھوں نے اعلان کر دیا کہ کانگریس آئندہ کیبنٹ مشن پلان کو تبدیل (Modify) کر سکتی ہے۔ مسٹر جناح اس بات پر سخت ناراض ہوئے۔ وہ کانگریس سے ہمیشہ کے لیے دور ہو گئے جس کا آخری نتیجہ ملک کی تقسیم (۱۹۴۷) کی صورت میں برآمد ہوا۔
مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں کہ کیبنٹ مشن پلان آزاد ہندوستان کے constitution کی بنیاد تھا۔ اس کو منقسم ہندوستان کے بجائے متحدہ ہندوستان کے تصور پر بنایا گیا تھا۔ مولانا آزاد لکھتے ہیں کہ مسٹر جناح نے اس کے بعد کہا کہ اگر کانگریس کیبنٹ مشن کی پابند نہ ہو اور اس کے نقشہ کو دستور ساز
‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues