Al-Risala · March 1990 · page 37

تو شاید وہ اتنی مؤثر نہ ہوتی" صفحہ ۳۳

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۳۷

کے بعد وہاں کے بالخصوص کراچی کے سرمایہ کاروں نے پنجاب کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے اور اب سندھ کے بجائے پنجاب میں نے صنعتی یونٹ لگانے کے لئے قومی بینکوں اور مالیاتی اداروں سے رجوع کرنے کا آغاز کر دیا ہے اور پنجاب کے بڑے شہروں کے قرب و جوار میں اپنے عزیز و اقارب کے توسط سے صنعتی یونٹ لگانے اور دیگر کاروبار کرنے کے لئے آراضی کی خرید میں مصروف ہیں۔ سرمائے کی گردش اور سرمایہ کاری صرف پر امن فضا میں ہی ممکن ہوتی ہے اور سرمائے کی منڈی اتنی حساس ہوتی ہے کہ محض ابیک افواہ ہی اس کے کونے کونے تک ہلچل مچا کر رکھ دیتی ہے، صوبہ سندھ میں ایک عرصے سے اغوا و ڈکیتیوں کے جو واقعات رونما ہوئے ہیں وہ یقیناً سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ اس سے سرمایہ کاروں میں نقل مکانی کا رجحان پیدا ہوا ہو۔

ایک پاکستانی مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ خلیج کے ایک ملک میں کچھ دنوں رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک روز وہ وہاں کے پوسٹ آفس میں ایک خط کی رجسٹری کرنے گئے۔ لفافہ پر انھوں نے ہندوستانی قاعدہ کے مطابق، بھیجنے والے کا پتہ لفافہ کے نیچے بائیں طرف لکھا تھا۔ جب کہ خلیجی قاعدہ کے مطابق ، اس پتہ کو لفافہ کے اوپر بائیں طرف لکھا جانا چاہئے۔ پوسٹ آفس کے عرب کلرک نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ غلط ہے، دوسرے لفافہ پر صحیح پتہ لکھ کر لاؤ۔ آدمی نے کہا کہ میرے پاس دوسرا لفافہ نہیں ، اور اس وقت بازار سے بھی دوسرا لفافہ حاصل کرنا مشکل ہے، آپ اسی لفافہ کو قبول کر لیں۔ بات بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ کلرک نے بگڑ کر کہا : أ تخالف النظام (کیا تم نظام کی خلاف ورزی کرنا چاہتے ہو) یہ جملہ وہاں کے لحاظ سے ایک قسم کی دھمکی تھی۔ اس کا مطلب ، دوسرے لفظوں میں یہ تھا کہ خاموش رہو، ورنہ تم کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک میں کتنا سخت گیری کا ماحول ہے۔ خلیجی ممالک میں جو امن ہے ، وہ دراصل اسی پابند نظام کا نتیجہ ہے، اور ہندوستان میں جو بے امنی ہے ، وہ یہاں کے آزاد نظام کا نتیجہ۔ اس دنیا میں اکثر اوقات یہ ممکن نہیں ہوتا کہ آدمی یک وقت دونوں چیزوں کو لے سکے۔ ایک کو لینے کے لئے اسے دوسرے کو چھوڑ نا

‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues

Printed page