Al-Risala · April 1990 · page 4

آنا اور جانا

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۴

آنا اور جانا

کالون کولج (Calvin Coolidge) امریکہ کا ۳۰ واں صدر تھا۔ وہ ۴ جولائی ۱۸۷۲ کو پیدا ہوا، اور ۵ جنوری ۱۹۳۳ کو اس کی وفات ہوئی۔ ۱۹۲۲ میں اس نے نہایت آسانی سے صدارت کا الیکشن جیت لیا تھا۔ اس کی وجہ زیادہ تر یہ تھی کہ وہ خطرناک انقلابیت کا مخالف بن کر کھڑا ہوا تھا۔ (dangerous radicalism)

کہا جاتا ہے کہ جب وہ امریکہ کا صدر تھا، ایک شخص نے ظریفانہ طور پر اس سے پوچھاکہ وائٹ ہاؤس میں کون رہتا ہے۔ صدر نے مختصر طور پر جواب دیا کہ کوئی نہیں، وہ بس آتے ہیں اور جاتے ہیں :

The story goes that when Calvin Coolidge was the U.S. president a visi- tor facetiously asked him who lived in the White House. “No one,” rep- lied the incumbent laconically, “they just come and go.”

کالون کولج نے جو بات امریکہ کی صدارتی رہائش گاہ (وائٹ ہاؤس) کے بارہ میں کہی، وہ زیادہ کامل طور پر پوری دنیا کے لیے صحیح ہے ۔ اس دنیا میں بظاہر بے شمار گھر بنے ہوئے ہیں۔ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی شخص یا خاندان مقیم دکھائی دیتا ہے۔ مگر یہ سب صرف سطح کی باتیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی رہنے والا نہیں۔ ہر ایک بس آرہا ہے اور جارہا ہے ۔ اس دنیا کا کوئی مکان مکان نہیں۔ ہر مکان گویا ایک قسم کی عارضی سرائے ہے۔ یہاں لوگ صرف اس لیے آتے ہیں کہ وہ یہاں سے واپس چلے جائیں ۔ یہاں لوگ صرف اس لیے بستے ہیں کہ دوبارہ انھیں یہاں کے گھروں میں بسنا نصیب نہ ہو۔

لوگ زندگی کو جانتے ہیں، مگر لوگ موت کو نہیں جانتے۔ لوگ ”رہنے“ سے واقف ہیں، مگر ”وہ“ جانے سے واقف نہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے لیے مکان بنا رہے ہیں ۔ انھیں معلوم نہیں کہ بالآخر انھیں جہاں رہنا ہے وہ جگہ وہ ہے جو خدا ان کے لیے مقرر کرے، نہ کہ وہ جگہ جو انھوں نے بطور خود اپنے لیے تعمیر کر رکھی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page