Al-Risala · April 1990 · page 20

رمضان کا مہینہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۲۰

تقوی دینی حساسیت کا دوسرا نام ہے۔ اس اعتبار سے روزہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کے اندر دینی احساس کو بیدار کیا جائے ۔ اس کو بے حس انسان کے بجائے ایک حساس انسان بنا دیا جائے ۔ ہر آدمی کی فطرت میں ایک ربانی انسان موجود ہے ۔ روزہ اس لیے ہے کہ وہ آدمی کے اندر چھپے ہوئے اس ربانی انسان کو جگا دے ۔

رمضان کا مہینہ ہر سال اس لیے آتا ہے کہ آدمی کوروزہ کے تجربات سے گزار کر اس کے اندر تعلق باللہ کی کیفیت کو زندہ کیا جائے ۔ یہاں تک کہ کوئی بندہ مومن اپنے رب کو یاد کر کے کہہ اٹھے کہ خدایا، تو شیطان کو اس سے روک دے کہ وہ مجھے گمراہ کرے ۔ خدایا، تو میرے لیے جنت کا دروازہ کھول دے ۔ اور اس کا کوئی دروازہ میرے اوپر بند نہ رکھ ۔ اور تو میرے اوپر جہنم کے دروازے بند کر دے ، اور اس کا کوئی دروازہ میرے لیے کھلا نہ رکھ ۔ جس شخص کا روزہ اس کے لیے اس پکار میں ڈھل جائے ، وہی وہ شخص ہے جس کے حق میں مذکورہ حدیث کے الفاظ پورے ہوں گے۔

روزہ گویا ایک سالانہ موقع ہے جب کہ آدمی شیطان کو باندھ کر اس کو اپنے سے دور کر سکتا ہے۔ حدیث میں بظاہر یہ الفاظ ہیں کہ روزہ کے مہینہ میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کا روزہ اس کے اندر یہ تڑپ پیدا کرے کہ وہ خدا سے اس بات کا طالب بن جائے کہ شیطان کو اس کے اوپر اثر انداز ہونے سے روک دیا جائے ، تو خدا اس کو وہی چیز دے دیتا ہے جس کی طلب اس کی نفسیات میں ابھری تھی۔

اسی طرح حدیث میں بظاہر یہ کہا گیا ہے کہ روزہ کے مہینہ میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کا روزہ اس کے اندر یہ احساس بیدار کر دے کہ وہ پکار اٹھے کہ خدایا، تو میرے لیے جنت کے دروازے کھول دے اور جہنم کے دروازوں کو میرے اوپر بند کر دے ، تو اس کے لیے خدا اس کا فیصلہ دے دیتا ہے جو اس نے خدا سے اپنے لیے مانگا تھا۔

ہر عمل آدمی کو کسی انعام کا مستحق بناتا ہے۔ روزہ کا عمل آدمی کو اس بات کا مستحق بناتا ہے کہ اللہ اس پر اپنا خصوصی انعام فرمائے ، اس کو ہر فتنہ سے محفوظ کر کے اپنی ابدی رحمتوں کے سایہ میں لے لے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page