Al-Risala · April 1990 · page 21

تشخص کا مسئلہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۲۱

تشخص کا مسئلہ

مولانا عبدالمتین بنارسی (مقیم دہلی) نے ۱۰ نومبر ۱۹۸۹ کی ملاقات میں ایک واقعہ بتایا۔ وہ دہلی سے بنارس کے لیے سفر کر رہے تھے۔ ٹرین میں ان کی ملاقات ایک ہندو مسافر سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے مذکورہ ہندو سے پوچھا کہ دسہرہ کیا ہے ۔ ہندو نے فوراً جواب دیا: جیسے آپ کے یہاں تعزیہ ہے ویسے ہی ہمارے یہاں دسہرہ ہے۔

ایک اور مسلمان بزرگ نے بتایا کہ انھوں نے ایک ہندو لیڈر کی تقریر سنی۔ لیڈر نے تقریر کے دوران کہا کہ مجھے تو مسلمان اور ہندو کا کوئی فرق نہیں معلوم۔ بس اتنا ہے کہ مسلمان رٹا کر پوجتے ہیں اور ہندو کھڑا کر پوجتے ہیں یعنی مسلمان قبر کے مردہ کو پوجتے ہیں اور ہندو مندر کی مورتی کو۔ ایک بار ایک شہر میں عید میلاد النبی کا جشن تھا۔ روایتی انداز میں لمبا جلوس نکالا گیا ۔ ایک ہندو نے اس کو دیکھ کر کہا: آخر ہندوؤں اور مسلمانوں میں کیا فرق ہے ۔ ہندوؤں کے یہاں اگر رام لیلا ہے تو مسلمانوں کے یہاں محمد لیلا۔

ایک مسجد میں روزانہ فجر کی نماز کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر "درود و سلام" پڑھا جاتا تھا ، نعت خوانی ہوتی تھی۔ پڑوس کے ایک ہندو نے چند روز اس کو سننے کے بعد کہا : ہندوؤں اور مسلمانوں کا مذہب تو مجھ کو ایک ہی دکھائی دیتا ہے ۔ بس یہ فرق ہے کہ ہندوؤں کے یہاں جو کچھ ہوتا ہے اس کا نام کیرتن ہے ، اور مسلمانوں کے یہاں جو کچھ ہوتا ہے اس کا نام انھوں نے درود و سلام رکھا ہے۔ اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ موجودہ مسلمانوں نے اپنے دین میں اتنی بدعات اور تحریفات کی ہیں کہ اب دوسرے مذہب والوں کی نظر میں اسلام اور غیر اسلام کا فرق ہی مٹ گیا ہے۔ اسلامی تشخص کا سب سے بڑا مسئلہ بلاشبہ یہی ہے۔ نام نہاد مسلم رہنما شور کرتے ہیں کہ غیر مسلم قومیں ہمارے اسلامی تشخص کو مٹانا چاہتی ہیں۔ مگر اسلامی تشخص کو مٹانے کا جو واقعہ خود مسلمان انجام دے رہے ہیں ، اس کے خلاف وہ کچھ نہیں بولتے۔ شاید اس لیے کہ دوسری قوم کے خلاف بولنا سب سے زیادہ آسان کام ہے اور اپنی قوم کے خلاف بولنا سب سے زیادہ مشکل کام ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page