Al-Risala · April 1990 · page 22

دعوت یا نفرت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۲۲

دعوت یا نفرت

پرانی دہلی کے ایک محلہ میں ایک شخص نے دکان کھولی۔ اس کے بعد محلہ کا ایک آدمی اس کی دکان پر آنے لگا۔ وہ روزانہ آتا اور دوکان پر بیٹھ کر محلہ والوں کی برائیاں بیان کرتا۔ دکاندار نے پہلے نرمی کے ساتھ اس کو اس قسم کی باتوں سے روکنے کی کوشش کی ۔ مگر وہ نہ رکا۔ آخر دکاندار ایک روز ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا : میاں صاحب ! بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ میری دکان پر نہ آئیں ۔ آپ جن لوگوں کی برائیاں کرتے ہیں وہ سب میرے گاہک ہیں ۔ آپ کی باتیں سن کر اگر میرے دل میں ان کی نفرت آجائے تو میں ان کے ساتھ دکانداری نہیں کر سکتا۔ دکانداری پیار کا سودا ہے۔ وہ نفرت اور حقارت کا کاروبار نہیں ۔

موجودہ زمانہ میں جو مسلمان اسلام کے مسائل پر لکھنے اور بولنے کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں ، اسلام بھی ان سے بزبان خاموش کہہ رہا ہے کہ آپ کا بہت کرم ہوگا ، اگر آپ لوگ میرے بارہ میں لکھنے اور بولنے کا موجودہ کام ختم کر دیں۔ کیوں کہ آپ کا سارا کلام منفی کلام ہے، اور یہ منفی کلام میرے تمام دعوتی امکانات کو مسلسل طور پر برباد کر رہا ہے۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے جو لکھنے اور بولنے والے ہیں، وہ سب کے سب اس سادہ حقیقت سے بے خبر نظر آتے ہیں جس کو مذکورہ واقعہ میں ایک معمولی دکاندار نے اول روز جان لیا تھا۔ ہمارے لکھنے اور بولنے والے دعوت کا نام لیتے ہیں۔ وہ فخر کے ساتھ اپنے آپ کو داعی کہتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ وہ ایسی باتیں لکھنے اور بولنے میں مشغول ہیں جو مسلمانوں کے اندر اپنی مدعو قوموں کے خلاف نفرت اور بغض کی فصل اگاتے والی ہوں ۔

موجودہ مسلم دنیا میں جو لوگ لکھنے اور بولنے کا کام کر رہے ہیں ، ان کے کلام کا مشترک خلاصہ ایک لفظ میں شکایت اور احتجاج ہے۔ ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی غیر مسلم فرقہ یا گروہ کی برائیاں بیان کرنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی مغربی مستشرقین کی سیاہ کاریوں کا اعلان کر رہا ہے اور کوئی صہیونی یہودیوں کی مکاری کا۔ کوئی استعماری طاقتوں کے ظلم کا انشار کر رہا ہے اور کوئی صیبی فونوں کی معاندانہ کاروائیوں کا۔ کوئی مسیحی مبلغین کی سازشوں کا انکشاف کر رہا ہے اور کوئی ہند احیار پرستوں کے خفیہ منصوبوں کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page