Al-Risala · April 1990 · page 23

دعوت یا نفرت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۲۳

اسی طرح کوئی مسلم اقلیت کے خلاف غیر مسلم اکثریت کے امتیاز کے اعداد و شمار چھاپ رہا ہے ۔ اور کوئی مسلمانوں کے ملی تشخص کو ختم کرنے کے لیے اغیار کی معاندانہ کوششوں پر فریاد کرنے میں مشغول ہے ۔ وغیرہ دعوت کی شریعت میں یہ تمام چیزیں ناجائز کے درجہ میں غلط ہیں ۔ یہ تمام لوگ جن کے خلاف موجودہ قلمی اور لسانی جہاد کیا جارہا ہے ، وہ وہی ہیں جن پر ہمیں دعوت کے فرض کو انجام دینا ہے۔ وہ سب کے سب ہمارے لیے مدعو کے درجہ میں ہیں ۔ مذکورہ قسم کی تقریریں اور تحریریں مسلسل طور پر مسلمانوں کو اپنے مدعو گروہ سے متنفر کر رہی ہیں ۔ اور جن لوگوں کے خلاف آدمی کے دل میں نفرت پیدا ہوجائے ، وہ ان کے اوپر دعوت کا عمل جاری نہیں کر سکتا۔

دعوت کا عمل محبت اور خیر خواہی کے سرچشمہ سے نکلنے والا عمل ہے ۔ وہ نفرت اور بغض سے بھرے ہوئے سینہ سے ظاہر ہونے والا عمل نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں داعی کو یک طرفہ طور پر صبر اور اعراض کی روش پر قائم ہونے کا حکم دیا گیا ہے ۔ دعوت اور صبر دونوں لازم اور ملزوم ہیں ۔ جو لوگ مدعو کی زیادتیوں پر صبر نہ کر سکیں ، وہ خدا کے دین کو خدا کے بندوں تک پہونچانے کا کام بھی نہیں کر سکتے۔

ایسی حالت میں مسلمانوں کے جو لکھنے اور بولنے والے یہ کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی مدعو اقوام کے ظلم اور ان کی سازشوں کے خلاف فریاد کرنے کی ایجنسی لیے ہوئے ہیں ، وہ درحقیقت شیطان کے ایجنٹ ہیں۔ شیطان چاہتا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان تلخیوں کو خوب بڑھائے تاکہ داعی اپنے مدعو سے اتنا متنفر ہوجائے کہ اس کے دل میں مدعو کے اوپر دعوتی عمل کرنے کا جذبہ ہی باقی نہ رہے۔ یہی وہ کام ہے جو آج ہمارے تمام لکھنے اور بولنے والے انجام دے رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ شیطان کے مقصد کی تکمیل ہے نہ کہ خدا کے منصوبہ کو بروئے کار لانے کی جدوجہد ۔ اسلام دورِ جدید کا خالق صفحات ۱۱۲ ہدیہ ۲۰ روپیہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page