Al-Risala · April 1990 · page 24

فتح اسلام

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۲۴

فتح اسلام

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے۔ مکہ کے مخالفین نے مشورہ کیا کہ اپنے اندر کے ایک سمجھ دار شخص کو چنیں تاکہ وہ پیغمبر اسلام کے پاس جاکر ان سے گفتگو کرکے انھیں قائل کرسکے۔ اس مقصد کے لیے ابوالولید عتبہ بن ربیعہ کا انتخاب کیا گیا جو مکہ کے سرداروں میں سے تھا اور نہایت ذہین اور ہوشیار آدمی سمجھا جاتا تھا ۔

عتبہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور آپ سے تفصیلی گفت گو کی۔ اس گفتگو کے آخر میں پیغمبر اسلام نے عتبہ کو قرآن (حم السجدہ) کی ابتدائی آیتیں سنائیں۔ روایات بتاتی ہیں کہ عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف زمین پر ٹیک کر بیٹھ گیا اور حیرت اور خاموشی کے ساتھ قرآن کی آیتیں سنتا رہا۔ اس کے بعد عتبہ سے وہاں سے واپس ہوا تو حسب وعدہ اپنے ساتھیوں کے پاس نہیں گیا، بلکہ اپنے گھر پر بیٹھ گیا۔ ابو جہل کو معلوم ہوا تو اس کو اندیشہ ہوا کہ عتبہ شاید محمد کے کلام سے متاثر ہوگیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ عتبہ کے گھر گیا۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم اے عتبہ ، ہم تمہارے پاس صرف اس لیے آئے ہیں کہ ہم کو اندیشہ ہے کہ تم محمد کی طرف مائل ہوگئے اور محمد کا دین تم کو پسند آگیا ( واللہ یا عتبة ما جئنا الا انک صبوت الی محمد وا عجبک امرہ، صفحه ۵۰۲)

اس سلسلہ میں کافی تفصیل سیرت کی کتابوں میں نقل کی گئی ہے۔ خلاصہ یہ کہ عتبہ نے کہا کہ خدا کی قسم، اس آدمی کی زبان سے میں نے ایسا کلام سنا جیسا کلام میرے کانوں نے کبھی نہیں سنا تھا ۔ اس کو سن کر میں اتنا مسحور ہوگیا کہ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں اس کا کیا جواب دوں ( واللہ لقد سمعتُ من هذا الرّجل كلاماً ما سمعتُ اذنای كلاماً مثله وما دریتُ ما أردُّ عليه، صفحه (۵۰۵) سیرۃ ابن کثیر، المجلد الاول ۔

اسلام کی چودہ سو سال کی تاریخ میں مسلسل ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ ایک شخص کسی دوسرے مقصد کے تحت اسلام سے قریب ہوا۔ مگر جب اس نے اسلام کی تعلیمات کو جانا تو اس کے دل نے اس کی سچائی پر گواہی دی ، اور اس نے خود اپنے جذبہ کے تحت اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page