Al-Risala · April 1990 · page 25

فشل المخطط الكنسى لا فرقة التنصير

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۲۵

قبول کر لیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام عین فطرت انسانی کے مطابق ہے ۔ چنانچہ جب کوئی شخص اسلام سے قریب ہوتا ہے تو وہ عین اپنی اندرونی فطرت کے زور پر اسلام کی طرف کھنچ اٹھتا ہے اور اس کے دائرہ میں داخل ہو جاتا ہے ۔

ایسے واقعات ماضی میں بھی کثرت سے پیش آئے، اور حال میں بھی کثرت سے پیش آ رہے ہیں ۔ الرسالہ دسمبر ۱۹۷۶ میں اسی قسم کا ایک واقعہ جاپان سے متعلق شائع کیا گیا تھا ۔ مسٹر سبورو ایک جاپانی پروفیسر تھے۔ ان سے کہا گیا کہ وہ جاپانی انسائیکلو پیڈیا کے لیے اسلام پر ایک آرٹیکل تیار کریں۔ اس مقصد کے تحت انھوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ مطالعہ کے دوران ان پر اسلام کی سچائی روشن ہوتی چلی گئی۔ ان کے دل نے گواہی دی کہ یہی انسانیت کا حقیقی مذہب ہے۔ یہاں تک کہ جب ان کا آرٹیکل تیار ہوا تو وہ خود بھی اسلام قبول کر کے عملاً اسلام کے دائرہ میں داخل ہو چکے تھے ۔ یہ واقعہ ۱۹۳۰ کا ہے (صفحه ۳۴) اس سلسلہ کی ایک تازہ مثال وہ ہے جو مکہ کے عربی ہفت روزہ اخبار العالم الاسلامی (۲۷۹ ربیع الثانی ۱۴۱۰ھ ، ۲ نومبر ۱۹۸۹ء) میں شائع ہوئی ہے۔ یہ ایک تفصیلی رپورٹ ہے جس کا عنوان ہے :

فشل المخطط الكنسى لا فرقة التنصير

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عیسائی تنظیموں نے اعلیٰ تربیت کے ذریعہ ۵۳ ۴۷ مبلغین تیار کیے اور ان کو افریقی ملک لبیبیا کی راجدھانی منروویا (Monrovia) بھیج دیا۔ ان کا مشن یہ تھا کہ وہ خاموش تبلیغ کے ذریعہ لبیبیا (Liberia) کے دس لاکھ مسلمانوں کو مسیحی مذہب میں داخل کر دیں ۔

یہ مسیحی مبلغین تمام علمی اور مادی ذرائع سے پوری طرح مسلح تھے۔ ان کو اتنا زیادہ تیار کیا گیا تھا کہ وہ لبیبی قبائل کی مقامی زبانیں ، مانکا ، ، بانیکا ، منیکا ، کیسکا ، بلیسکا ، نہایت روانی کے ساتھ بولتے تھے ۔

ان تمام تیاریوں کے باوجود نتیجہ الٹا ہوا ۔ ان مسیحی مبلغین کی بیشتر تعداد نے وہاں پہونچ کر اسلام قبول کر لیا ۔ جس ملک میں وہ مسیحیت کی تبلیغ کے لیے بھیجے گیے تھے ، وہاں اب وہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page