اپریل ۱۹۹۰ء | الرسائل 31
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۳۳
یہ آیت پڑھنی چاہیے :
لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ (یہود) کی آرزوؤں پر ہے۔ جو شخص بھی برامل مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِياً وَلَا نَصِيراً کرے گا اس کو ضرور اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ ( النساء ۱۲۳ ) اور وہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا حمایتی اور مددگار نہ پائے گا۔
شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے جو نوٹ لکھا ہے وہ نہایت با معنی ہے ۔ اس نوٹ کو یہاں نقل کیا جاتا ہے :
کتاب والوں، یعنی یہودیوں اور نصرانیوں کو خیال تھا کہ ہم خاص بندے ہیں جن گناہوں پر خلقت پکڑی جائے گی، ہم نہ پکڑے جائیں گے ۔ ہمارے پیغمبر حمایت کر کے ہم کو بچالیں گے۔ اور نادان اہل اسلام بھی اپنے حق میں یہی خیال کر لیا کرتے ہیں ۔ سو فرما دیا کہ نجات اور ثواب کسی کی امید اور خیال پر موقوف اور منحصر نہیں۔ جو برا کرے گا، پکڑا جائے گا۔ کوئی ہو، اللہ کے عذاب کے وقت کسی کی حمایت کام نہیں آسکتی ۔ اللہ جس کو پکڑے ، وہی چھوڑے تو چھوٹے ۔ اور جو کوئی عمل نیک کرے گا، بشرطیکہ ایمان بھی رکھتا ہو، سو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے، اور اپنی نیکیوں کا پورا ثواب پائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ ثواب و عذاب کا تعلق اعمال سے ہے، کسی کی امید اور آرزو سے کچھ نہیں ہوتا ۔ سو ان امیدوں پر لات مارو اور نیک کاموں میں ہمت کرو " (صفحہ ۱۲۶)
زیر طبع کتابیں تجدید دین صفحات ۸۸ راه عمل ۱۵۲ عقلیات اسلام ۱۲۰
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues