Al-Risala · April 1990 · page 34

دعوتی تسخیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۳۴

دعوتی تسخیر

حال میں فرانس کے ایک مشہور آرٹسٹ نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ اس کا سابق نام برنارڈ جُو ہے ۔ اور موجودہ اسلامی نام عبدالعزیز ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ مجھے اپنے فن سے عشق تھا اور اس کے لیے میں دنیا کے مختلف ملکوں میں کثرت سے سفر کر تا تھا ۔ اس سلسلہ میں میں مصر گیا اور قاہرہ اور اسکندریہ میں چند روز قیام کیا ۔

ایک روز جب کہ میں قاہرہ کی سڑکوں پر چل رہا تھا ، میرے کان میں ایک پُرکشش آواز آئی ۔ یہ اذان کی آواز تھی جو مسجد کے میناروں سے بلند ہو رہی تھی ۔ اس قسم کی آواز میں نے پہلی بار سنی تھی ۔ مجھے مزید جستجو ہوئی ۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ نماز کی پکار ہے تو میں مسجد میں گیا اور لوگوں کو صف بستہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ۔ اذان کی آواز اور نماز کے مناظر نے مجھے غیر معمولی طور پر متاثر کیا ۔ میں فرانس واپس آیا تو میں نے اسلامی لٹریچر تلاش کرکے اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا ۔ میں نے قرآن کی تلاوت کے کیسٹ بھی سنے ۔ ان عربی کیسٹوں کو اگرچہ میں سمجھتا نہ تھا ، مگر ان کا سننا مجھے اچھا لگتا تھا ، اس لیے میں ان کو سنتا رہا ۔

اس کے بعد میں دوبارہ مصر گیا ۔ وہاں میں نے الازہر کے علماء کے سامنے اسلام قبول کر لیا ۔ اب میں محسوس کرتا ہوں کہ سابقہ "برنارڈ جُو " اور موجودہ " عبدالعزیز " میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ اسلامی عقیدہ نے میرے طریقہ کو بدل دیا ہے ۔ تاریکی کے بعد اب میں روشنی میں آ گیا ہوں ۔ مجھے اپنے اندر ایک ایسا سکون محسوس ہو رہا ہے جس سے میں اس سے پہلے کبھی آشنا نہ تھا ۔ اسلام میری روح اور میرے جسم میں خون کی طرح رواں دواں ہے (صفحه ۶)

یہ کوئی ایک مثال نہیں ۔ فرانس میں اور اسی طرح دوسرے مغربی ملکوں میں ، کثرت سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ خود فرانس میں پچھلے سالوں میں روجیہ جا رودی ، مائیکل شوڈ کیونبر اور موریس بیجار وغیرہ جیسے بہت سے مشہور اور ممتاز لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں اور برابر داخل ہو رہے ہیں ۔ ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے ریاض کے ہفت روزہ الدعوة (۲۷ جمادی الاولی ۱۴۱۰ھ ۳۰ نومبر ۱۹۸۹ء ) نے لکھا ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page