Al-Risala · April 1990 · page 39

جہیز کی رسم

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۳۹

جہیز کی رسم

مسلمانوں میں آجکل جہیز کی جو رسم ہے، وہ عین اسی ہندوانہ رسم کی نقل ہے جو برادران وطن کے درمیان تلک کے نام سے رائج ہے ۔ پہلے جہیز کا مطلب یہ تھا کہ لڑکی کا سر پرست لڑکی کو نیا گھر بسانے کے لیے ضروری سامان دیدے۔ مگر اس نے باقاعدہ مطالبہ اور فروخت کی صورت اختیار کرلی ہے ۔ لڑکا جتنا زیادہ بڑی تعلیمی ڈگری رکھتا ہو، یا جتنا زیادہ بڑی کمائی والا ہو، اتنا ہی زیادہ شادی کے بازار میں اس کی قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ پہلے لڑکی کے والدین لڑکی کو ضروری استعمالی اشیاء بطور جہیز دیتے تھے۔ اب اس میں ناقابل بیان حد تک اضافہ ہو گیا ہے ۔ مثلاً صوفہ سیٹ ، ڈریسیت ، کوکنگ رینج ، ٹیلی ویژن ، موٹر سائیکل، ریفریجریٹر، کار ، وغیرہ ، وغیرہ ۔ تاہم اسی پر بس نہیں ۔ اسی کے ساتھ خاطب (لڑکا) مخطوبہ (لڑکی) سے بڑی بڑی رقموں کا مطالبہ کرتا ہے یا متوقع رہتا ہے، جس کی تکمیل کے بغیر شادی لڑکی کے لیے بربادی کے ہم معنی بن جاتی ہے ۔

ان بھاری رسموں کا نتیجہ یہ ہے کہ شادی ایک ایسا تپیش بن گئی ہے جو صرف چند خوش نصیب افراد کے بس میں ہو۔ بے شمار والدین ہیں جو اپنے آپ کو اپنی لڑکیوں کا نکاح کرنے کے لیے بے بس پا رہے ہیں ۔ ان کے سامنے ان کی جوان لڑکیاں حسرت و یاس کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ مگر ان کے امکان میں نہیں کہ شادی کے بازار میں بھاری رقم ادا کر کے ان کے لیے شوہر پاسکیں ۔ چنانچہ ایسی مثالیں سامنے آ رہی ہیں کہ لڑکیاں خودکشی کر لیتی ہیں ۔ مرتد ہو جاتی ہیں۔ اور دوسری برائیوں میں پڑ جاتی ہیں جن کو بیان کرنے کی قلم میں طاقت نہیں ۔ جہیز کی یہ صورتیں سادہ طور پر صرف سماجی برائی نہیں ہیں ۔ وہ یقینی طور پر ناجائز اور حرام ہیں ۔ یہ ایسے اعمال ہیں جن کے ساتھ آدمی کا نماز روزہ بھی اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول نہیں کیا جاتا ۔

قدیم زمانہ میں موجودہ قسم کے جہیز کا رواج نہ تھا جس میں لڑکی کا والد لڑکے کو سامان اور نقد رقم ادا کرتا ہے۔ تاہم یہ رسم برعکس صورت میں جزئی طور پر پائی جاتی تھی ۔ یعنی لڑکی والوں کے مطالبہ پر لڑکے والے کچھ سامان یا نقد لڑکی کو ادا کرتے تھے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page