جہیز کی رسم
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۴۰
اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ زءاعتی زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں مال اور کمائی کے اعتبار سے وہ غیر معمولی فرق نہ تھا جو آج پیدا ہو گیا ہے۔ قدیم زمانہ کی عورت زراعت کے چھوٹے اور ہلکے کام کرتی تھی۔ اس کے مقابلہ میں مرد زیادہ بڑے اور بھاری کام کرتا تھا۔ اس طرح دونوں صنفوں میں جو فرق تھا وہ صرف کچھ ڈگری کا تھا۔
اب موجودہ زمانہ میں کمائی کے نئے اور اتھاہ مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔ مگر عورت خاص طور پر مشرقی معاشرہ کی عورت، بڑی حد تک اپنے سابقہ مقام پر ہے۔ جب کہ مرد کمائی کے اعتبار سے کم از کم امکانی طور پر، ناقابل بیان حد تک آگے بڑھ گیا ہے۔ اس صورت حال نے شادی کے بازار میں عورت کی اہمیت گھٹا دی ہے۔ اور مرد کی اہمیت اس کے مقابلہ میں بہت زیادہ بڑھادی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب لڑکی والے مطالبہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ اب یہ حیثیت تمام تر لڑکے کی طرف چلی گئی ہے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، قدیم زمانہ میں زیادہ تر خاطب (لڑکے) سے جہیز کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ اس وقت علما ر سے اس کی بابت فتویٰ پوچھا گیا تو انھوں نے اس کو رشوت قرار دیا۔ بوقت نکاح اس قسم کی رقم لینے اور دینے کو انھوں نے حرام بتایا اور اُس کو اُس حدیث کے تابع ٹھہرایا: لعن الله الراشي والمرتشي ۔
مجموعہ فتاویٰ مولانا عبدالحی (۴ / ۴۷) میں اس نوعیت کے ایک استفتاء کے جواب میں یہ مسئلہ نقل کیا گیا ہے :
لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والے والمرتشى - ومن الرشوة ما اخذه ولى المراة اور رشوت دینے والے پر لعنت کی ہے، اور قبل النکاح ، اذا كان بالسؤال او كان اعطار عورت کا سر پرست نکاح سے پہلے جو کچھ لے الزوج بنائ علی عدم رضائه . علی وہ بھی رشوت ہے، خواہ مطالبہ کر کے لے ، یا شوہر اس وجہ سے دے کہ اس کے بغیر عورت کا سر پرست نکاح پر راضی نہ تھا۔
موجودہ زمانہ میں لوگ شادی کے موقع پر نہایت اطمینان کے ساتھ بڑے بڑے سامان
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues