Al-Risala · April 1990 · page 41

الانكار على من تشبّه بالكفرة في النکاح

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۴۱

اور رقمیں لیتے ۔ انھیں خیال نہیں آتا کہ اس میں کوئی حرج ہے ۔ حالاں کہ یہ عین اس حدیث کا مصداق ہے جو صحیح بخاری میں آئی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جب کہ آدمی جو کچھ لے گا اس کے بارہ میں اس کو یہ پروانہ ہوگی کہ وہ حلال ہے یا حرام (يأتي على الناس زمان لا يبالي المرء ما اخذ منه آمن الحلال ام من الحرام) مشكاة المصابیح ، الجز والثانی ، صفحه ۸۴۳ شادی کے معاملہ میں نمائشی اور مسرفانہ رسمیں جو آج کل مسلمانوں میں رائج ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ وہ تمام تر ملک کی غیر مسلم قوموں کے زیر اثر اختیار کی گئی ہیں۔ یہ سب تشبّه بالاجانب ہے ۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انھیں میں سے ہے (من تشبّه بقوم فهو منهم)

کوئی عالم اگر دھوتی پہن کر بازار میں نکلے تو تمام مسلمان چیخ اٹھیں گے ۔ مگر اس سے زیادہ بڑے بڑے معاملات میں تمام عالم اور غیر عالم غیر قوموں کی نقل کر رہے ہیں اور اس پر کوئی چیخ بلند نہیں ہوتی۔ مولانا محمد یوسف کاندھلوی نے حیاۃ الصحابہ (جلد دوم) میں ایک باب اس عنوان کے تحت قائم کیا ہے : نکاح میں کافروں کی مشابہت پر انکار۔ ۔ اس کے ذیل میں انھوں نے ایک روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :

الانكار على من تشبّه بالكفرة في النکاح

اخرج ابو الشيخ في كتاب النكاح عن عروة بن رويم ان عبد الله ابن قُرْط الثُمالى رضى الله عنه كان يعسُّ بحمص ذات ليلة - وكان عاملاً لعمر رضى الله عنه فمرّت به عروس وهم يوقدون النيران بين يديها ، فضربهم بدرته حتى تفرقوا عن عروسهم ، فلما اصبح قعد على منبره فحمد الله واثنى عليه فقال : ان ابا جندلة نكح أمامة فصنع لها حشيات من طعام ، فرحم الله ابا جندلة وصلى على أمامة ، ولعن الله عروسكم البارحة ! اوقدوا النيران ، وتشبهوا بالكفرة والله مطفئ نوره - قال: روي عن عبد الله بن قُرْط بن إسحاق

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page