Al-Risala · April 1990 · page 42

الانكار على من تشبّه بالكفرة في النکاح

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۴۲

عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن قرط شمالی حمص میں ایک رات خبر گیری کے لیے پھر رہے تھے ۔ وہ خلیفہ ثانی عمر بن خطابؓ کی طرف سے وہاں کے حاکم تھے ۔ انھوں نے دولہا دلہن کی ایک بارات گزرتے ہوئے دیکھی ۔ لوگ اس کے آگے آگ جلا کر چل رہے تھے ۔ حضرت عبد اللہ نے ان کو اپنے درہ سے مارا ، یہاں تک کہ وہ لوگ بھاگ گئے ۔ جب صبح ہوئی تو وہ اپنے منبر پر بیٹھے ۔ انھوں نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور کہا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو جندلہ نے امامہ سے نکاح کیا ۔ اور ان کے لیے تھوڑا سا کھانا تیار کیا ۔ تو اللہ ابو جندلہ پر رحم کرے اور امامہ پر بھی رحمت فرمائے ۔ اور اللہ گزشتہ رات کے تمہارے دولہا دلہن پر لعنت کرے۔ انھوں نے آگ روشن کی اور کافروں کے ساتھ مشابہت اختیار کی ۔ مگر اللہ ان کی روشنی کو بجھا دینے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن قرط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے ۔ ایک وقت تھا کہ شادی میں نسبتاً کم درجہ کی غلط رسوم پر اسلام کے حاکم لوگوں کو کوڑے مارتے تھے ، اور علماء ان کے حرام ہونے کا فتویٰ دیتے تھے ۔ آج ان سے بہت زیادہ غلط رسوم مسلم شادیوں میں عام طور پر رائج ہو گئی ہیں ، مگر ان کے خلاف کوئی اٹھنے والا نہیں ۔ حتیٰ کہ جو لوگ بظاہر اس کے خلاف بولتے ہیں ، وہ بھی اس وقت اسی جاہلانہ دھوم میں شریک ہو جاتے ہیں جب کہ یہ دھوم ان کی اولاد یا ان کے اپنے لوگوں کی طرف سے کی گئی ہو ۔ حیدر آباد میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لیے مندرجہ ذیل پته پر رابطه قائم کریں :

AL-RISALA ACADEMY 3-5-780/19/2, King Kothi Opposite: Azam Manzil HYDERABAD 500 039 Phone: 231607

‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues

Printed page