ایثار اور قربانی کی تجدید
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۴۳
ایثار اور قربانی کی تجدید
عید الاضحی کا تہوار، دوسرے تاریخی تہواروں کی طرح، ایک بڑے تعمیری اور انقلابی واقعہ کی یادگار ہے۔ ہر سال ہجری کلنڈر کے آخری مہینہ میں اس دن کو عید الاضحی کے طور پر اس لیے منایا جاتا ہے کہ لوگ اس دن پیش آنے والے عظیم واقعہ کو یاد کریں اور اس کو اپنی زندگیوں میں داخل کرنے کا عہد کریں۔ یہ دن، ایک لفظ میں، ایثار اور قربانی کی یادگار ہے، وہ ایثار اور قربانی کی تجدید کا دن ہے۔ عید الاضحی جس عظیم واقعہ کی یادگار ہے، وہ تقریباً چار ہزار سال پہلے پیش آیا۔ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السّلام، جو عراق کے متمدن ملک میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے ایک اعلی مقصد کی خاطر اپنے بیٹے اسماعیل کو قربان کر دیا۔ یہ قربانی حقیقۃً جسم پر لوہے کی چھری چلانا نہ تھا بلکہ اپنی پوری زندگی پر صبر کی چھری چلانے کے ہم معنی تھا۔ یہ حق کی خاطر اپنی ذات کو نظر انداز کرنا تھا۔ یہ ایک بڑے مقصد کی خاطر چھوٹے تقاضوں کو چھوڑ دینا تھا۔ یہ اپنی منزل کی طرف ہر حال میں آگے بڑھنا تھا، خواہ اس کے لیے اپنی عزیز ترین متاع سے دست بردار ہونا پڑے۔
عید الاضحی کی مناسبت (relevance) ہمارے لئے کیا ہے ۔ اور یہ دن ہم سے کس قسم کے ایثار و قربانی کا تقاضا کرتا ہے، اس کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ حضرت ابراہیم کی قربانی کی حقیقت کیا تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی قربانی کی اہمیت کو جاننے کے بعد ہی ہم اپنی زندگیوں میں اس کی اہمیت کو جان سکتے ہیں۔ اور اس کو عملی طور پر اختیار کر سکتے ہیں ۔
ابتدائی طور پر حضرت ابراہیم کی قربانی کا واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک خواب کے مطابق اپنے عزیز بیٹے اسماعیل کو ذبح کر دینا چاہا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے روک دیا۔ اسماعیل کی جان کے فدیہ کے طور پر انہیں مینڈھا ذبح کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ اور حضرت اسماعیل کے لیے یہ حکم ہوا کہ ان کو لے جا کر عرب کے صحرا میں بسا دیں
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues