ایثار اور قربانی کی تجدید
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۴۴
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اصل منشا ربیٹے کا وقتی جسمانی ذبیحہ نہ تھا بلکہ اس کا مستقل نفسیاتی ذبیحہ تھا۔ کیونکہ اس وقت عرب کے صحرا میں کسی ذی حیات کو بسانا اس کو مستقل طور پر ذبح کی حالت میں ڈال دینے کے ہم معنی تھا۔
اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ تھا کہ ایک وسیع اصلاحی انقلاب دنیا میں لایا جائے جو ساری انسانیت کے لئے خیر و فلاح کا باعث ہو۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ درجہ کے افراد کی ایک ٹیم درکار تھی ۔ اسی طاقتور ٹیم کو تیار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کو استعمال فرمایا۔
اس مقصد کے لیے ضرورت تھی کہ ایک ایسا انسانی گروہ تیار کیا جائے جو تمدنی خرابیوں سے پاک ہو، جس کے اندر فطری انسانی اوصاف زندہ ہوں، جو ان تمام اعلیٰ خصوصیتوں کا مجموعہ ہو جس کو المروۃ (مردانگی) کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی نسل شہر کی مصنوعی فضا میں نہیں بن سکتی تھی ۔ اس کے لئے فطرت کا سادہ ماحول درکار تھا۔ یہی منصوبہ ہے جس کی تکمیل ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے ذریعہ انجام پائی۔ حضرت ابراہیم نے اس اعلیٰ مقصد کی خاطر اپنے بیٹے کو قربان کر دیا۔
اس مقصد کی تکمیل کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو عراق کی تمدنی فضا سے نکالا اور ان کو لا کر عرب کے غیر آباد علاقہ میں ڈال دیا۔ اس وقت وہاں ریت اور پتھر کے سوا اور کچھ نہ تھا ۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں زندگی کا کوئی سامان پایا نہ جاتا تھا۔ تاہم اس بے سامان ماحول میں سب سے بڑا سامان موجود تھا۔ ۔ وہ سادہ ماحول جہاں انسان اپنی فطرت پر پرورش پائے ، جہاں اس کے پیدائشی انسانی اوصاف کو آزادانہ ترقی کرنے کا موقع ملے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس خشک اور خالی علاقہ کو مطلوبہ نئی نسل تیار کرنے کے لیے منتخب کر لیا ۔ یہ گویا ایک عظیم صحرائی تربیت گاہ تھی جہاں حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر بسا دیا ۔ حضرت اسماعیل جب بڑے ہوئے تو انہوں نے ایک صحرائی لڑکی سے نکاح کر لیا ۔ اس طرح اس صحرائی ماحول میں وہ نسل بننا شروع ہوئی جو بعد کو بنو اسماعیل کہلائی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues