ایثار اور قربانی کی تجدید
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۰، صفحہ ۴۵
یہی بنو اسماعیل ہیں جن کے منتخب افراد کا نام اصحاب رسول ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اسی قوم (بنو اسماعیل) میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ان کو توحید کے نظریہ پر جمع کیا اور پھر ان کو لے کروہ عالمی اسلامی انقلاب برپا کیا جس نے انسانی تاریخ کا رُخ موڑ دیا۔ یہ بنواسماعیل تاریخ کے انوکھے لوگ تھے جو اعلیٰ انسانی اوصاف کا کامل نمونہ تھے۔ پروفیسر فلپ ہٹی نے بجا طور پر ان کو ہیرویوں کی نرسری (nursery of heroes) کہا ہے۔
عید اضحی کے دن جانور کی جو قربانی دی جاتی ہے وہی اصل قربانی نہیں ہے ۔ وہ اصل قربانی کی صرف ایک علامت ہے۔ اصل میں تو ہمیں خود اپنے آپ کو قربان کرنا ہے۔ جانور کی قربانی علامتی قربانی ہے ۔ وہ اس لئے کرائی جاتی ہے تا کہ لوگوں میں قربانی کی اعلیٰ روح زندہ رہے تا کہ وہ ایک عملی واقعہ کے ذریعہ اس کو یاد کرتے رہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور اس مقصد کی طرف انہیں کس طرح آگے بڑھنا ہے حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے جو قربانی دی، اس کی حیثیت ایک اعلیٰ مثال کی ہے۔ تاہم اس کی پیروی ہمیں اس کی اصل روح کے اعتبار سے کرنا ہے نہ کہ اس کی ظاہری شکل کے اعتبار سے ۔ اس مثال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر زمانہ میں قربانی کرنے والے لوگ اس کی ظاہری پیروی میں صحرا میں جا کر بس جائیں اور وہاں اس پرمشقت تاریخ کو دہرانا شروع کر دیں جو حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کے ساتھ قدیم عرب میں پیش آئی تھی۔ بعد کے زمانہ کے لوگوں کو اس قربانی کی اسپرٹ کو اپنانا ہے۔ اس واقعہ کی شکل زمانی ہے۔ مگر اس کی جو اسپرٹ ہے وہ دوامی اہمیت رکھتی ہے۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے انسانیت کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے کیا کہ وہ اپنے آپ کو متمدن دنیا سے نکال کر غیر آباد صحرا میں لے گئے۔ سرسبز و شاداب عراق کو چھوڑ کر وہ عرب کے خشک بیابان میں جا بسے۔ ظاہری فرق کے ساتھ یہی قربانی اپنے دائرہ میں ہر شخص سے مطلوب ہے۔ ہر ایک کا ایک ’’ سرسبز عراق‘‘ ہے ۔ اور
‹ Previous page Next page › Contents of April 1990 All issues