Al-Risala · May 1990 · page 12

درجات کی بلندی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۲

درجات کی بلندی

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے کرے ۔ قیامت آنے سے پہلے یہ آزادی ختم ہونے والی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دنیا میں جس طرح حق اور انصاف کے نمونے ہیں، اسی طرح یہاں ظلم اور زیادتی کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایک ابدی مسئلہ ہے۔ یہ انسان اول (آدم) کے زمانہ میں ہابیل اور قابیل کی نزاع کی صورت میں شروع ہوا اور قیامت کے ظہور تک جاری رہے گا۔ ایسی حالت میں ظلم و زیادتی کے مسائل کا حل کیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح زندگی کے دوسرے معاملات میں رہنمائی دی ہے، اسی طرح آپ نے زندگی کے اس نازک معاملہ میں بھی رہنمائی دی ہے۔ وہ رہنمائی یہ ہے : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الا اخبركم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا میں تم کو ایسا بعمل يرفع الله به الدرجات - قالوا بلى عمل نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ درجات کو بلند کرتا يا رسول الله - قال : تحلم على من يجهل عليك ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں اے خدا کے رسول۔ آپ وتعفو عمن ظلمك وتُعطى من حرمك نے فرمایا۔ جو شخص تم سے جہالت کرے تم اس سے درگزر کرو ۔ جو شخص تمہارے ساتھ ظلم کرے تم اس کو معاف کر دو ۔ جو شخص تم کو نہ دے تم اسے دو ۔ جو شخص تم سے کٹے تم اس سے جڑو۔

اس حدیث کے الفاظ پر غور کیجیے۔ اس کے مطابق، درجات کی بلندی کا راز یہ ہے کہ آدمی جوابی اخلاق سے مکمل پرہیز کرے ۔ وہ اشتعال انگیزی کے باوجود درگزر کا طریقہ اختیار کرے ۔ لوگ ظلم کریں تب بھی وہ انہیں معاف کر دے ۔ لوگ محروم کرنے کی سازشیں کریں پھر بھی وہ ان کو دینے کا سلسلہ بند نہ کرے ۔ لوگ دوری اختیار کریں تب بھی وہ ان سے قریب ہونے کی کوشش جاری رکھے ۔ یہ پیغمبر اسلام صلے اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے جو لوگ اس طریقہ پر چلیں وہ آپ کے مومن ہیں۔ جو لوگ اس طریقہ کو چھوڑ دیں، حتیٰ کہ اپنے زبان و قلم سے اس کی تردید کریں، وہ بلاشبہ آپ کے منکر ہیں، خواہ بطور خود وہ اپنے آپ کو مومن کامل سمجھتے ہوں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page