Al-Risala · May 1990 · page 13

تاریخ کا فیصلہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۳

تاریخ کا فیصلہ

اسپین میں مسلمانوں کی حکومت سات سو سال (۷۱۱ء- ۱۴۹۲ء) تک جاری رہی۔ یہ حکومت طارق بن زیاد نے عیسائی حکمرانوں کو شکست دے کر قائم کی تھی۔ آخری مرحلہ میں یہ حکومت سمٹ کر صرف غرناطہ میں باقی رہ گئی تھی۔ تاریخ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس سات سو سالہ مدت میں عیسائیوں نے مسلم سلطنت پر کوئی باقاعدہ حملہ کیا ہو۔ پھر یہ طاقت ور سلطنت کیسے ختم ہوگئی۔ اس کا جواب صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ خود مسلمانوں کے ہاتھوں اس کا خاتمہ ہوا۔

سب سے پہلے بغداد کے عباسی خلیفہ منصور عباسی کے حکم سے ۱۴۶ ھ میں عباسی فوج نے سمندر پار کر کے مسلم اسپین پر حملہ کیا۔ وقتی طور پر سلطنت کا ایک حصہ اس وقت کے اسپینی حکمراں عبد الرحمٰن اول کے قبضہ سے نکل گیا ۔ عبد الرحمٰن اول نے چند ماہ بعد ہی اپنی سلطنت کو دوبارہ لڑ کر عباسیوں سے واپس لے لیا۔ مگر باہمی لڑائیوں کا یہ سلسلہ پھر کبھی بند نہ ہوسکا۔ صوبائی حاکموں کی طرف سے بغاو ت اور باہم ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ اس دوران بعض عیسائی حکمرانوں نے بھی مسلم حکومتوں کی سرحدوں پر حملے کیے، مگر وہ خود مسلمانوں کے تعاون اور ان کی شہ پر ہوتے تھے۔ آخر کار اسپین کی مسلم سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ ہر سردار جو کسی شہر یا صوبہ کا حاکم ہوتا وہ بغاوت کر کے اپنی الگ سلطنت قائم کر لیتا۔ پھر یہ خود مختار ریاستیں چوں کہ اپنی سرحدوں کو مزید بڑھانے کی فکر میں رہتی تھیں ۔ اس لیے ان کے درمیان مستقل طور پر باہمی نزاع اور جنگ جاری رہتی تھی ۔ ان باہمی لڑائیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسپین کی مسلم سلطنت گھٹتے گھٹتے اسپین کے صرف ایک چھوٹے حصہ میں باقی رہ گئی جس کو تاریخ میں سلطنت غرناطہ کہا جاتا ہے ۔ اس سلطنت کا حکمراں ابو عبد اللہ آخری مرحلہ میں اتنا کمزور ہو گیا کہ مجبور ہو کر اس نے اپنے قلعہ کی کنجیاں ۲ جنوری ۱۴۹۲ء کو شاہ سلی فرڈینینڈ (Ferdinand II) کے حوالے کر دیں ، اور بقیہ ایام مراکش میں گزار کر وہیں مر گیا۔ یہی بعد کے زمانہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں کی کہانی ہے۔ ہر جگہ مسلمان صرف اپنے باہمی اختلاف کے نتیجہ میں برباد ہوتے ہیں ، اگر چہ وہ بطور خود دوسروں کو اپنی بربادی کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page