تباہی کی طرف
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۴
تباہی کی طرف
اینڈری سخاروف (Andrie Sakharov) روس کے ایک ممتاز سائنس داں تھے۔ ۔ وہ ۲۱ مئی ۱۹۲۱ کو پیدا ہوئے اور ۱۵ دسمبر ۱۹۸۹ کو انتقال کرگئے ۔ انھوں نے مسلسل محنت کے ذریعہ روس کا پہلا ہائیڈروجن بم تیار کیا جس کا اکتوبر ۱۹۵۳ میں کامیاب تجربہ کیا گیا ۔ ۱۹۷۵ میں ان کو نوبیل انعام دیا گیا ۔ انھوں نے ہائیڈروجن بم بنا کر امریکہ کے مقابلہ میں روس کو ہتھیار میں برابری عطا کی ۔ چنانچہ وہ روس کے نیشنل ہیرو بن گئے ۔ مگر اس کے بعد انسانی بنیاد پر وہ بم سازی کے خلاف ہو گئے ۔ اس کے نتیجہ میں تمام اعزازات سے محروم کر کے انھیں گرفتار کر لیا گیا اور ان کو ماسکو سے ۴۰ کلومیٹر دور گورکی میں نظر بند کر دیا گیا : موجودہ روسی وزیرِ اعظم میخائیل گورباچوف نے دسمبر ۱۹۸۶ میں اینڈری سخاروف کو آزاد کر دیا تھا ۔ تاہم وہ روس میں مکمل شہری آزادی لانے کے نام پر مسٹر گورباچوف کے بھی مخالف بنے رہے ۔ وہ اپنے آپ کو فری تھنکر کہتے تھے ۔ ان کی موت اچانک حرکت قلب بند ہونے سے واقع ہوئی ۔ موت سے صرف چند گھنٹہ پہلے انھوں نے ماسکو میں اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ مسٹر گورباچوف کی قیادت میں کمیونسٹ پارٹی ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے : اینڈری سخاروف کی مثال تمام انسانوں کی مثال ہے ۔ انسان خود موت کی عظیم تر تباہی کے کنارے کھڑا ہوا ہے ۔ مگر وہ دوسروں کو ان کی تباہی کی خبر دے رہا ہے ۔ وہ محاسبہ خداوندی کی میزان میں تولا جانے والا ہے ۔ مگر وہ دوسروں کا احتساب کرنے کے عنوان پر تقریریں کر رہا ہے ۔ کیسا عجیب ہے یہ انسان جس کو صرف دوسروں کی خبر ہے ، خود اپنی ذات کی اس کو خبر نہیں ۔