قابل غور
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۵
قابل غور
اسلام کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہولناک واقعہ وہ ہے جس کو "تاتاری حملہ" کہا جاتا ہے ۔ منگول تمبائی تیرھویں صدی عیسوی میں مسلم دنیا پر ٹوٹ پڑے اور سمرقند سے لے کر عراق تک ہر چیز کو تباہ کر ڈالا ۔ ۱۲۵۸ء میں وہ ہلاکو کی سرداری میں بغداد میں داخل ہوئے ۔ انھوں نے شہر کو ڈھا دیا اور تقریباً ۸ لاکھ آدمیوں کو ہلاک کر ڈالا ۔ آخری عباسی خلیفہ المعتصم کو ذلت کے ساتھ قتل کر دیا۔ اس وقت ایک مسلمان عالم اسکافظ ابن سید الناس زندہ تھے۔ کچھ لوگ ان کے پاس گئے اور کہا کہ مسلمانوں کی بربادی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ۔ اس کے باوجود اللہ کی رحمت و نصرت نازل نہیں ہو رہی ہے ۔ آخر اس کا سبب کیا ہے ۔ بزرگ نے جواب دیا :
أَنْتُمْ تُسْتَبْطِئُونَ الرَّحِمِ وَانّی تم سمجھتے ہو کہ رحمت اترنے میں دیر ہو رہی ہے أَسْتَبْطِئُ الرَّحِيمَ اور میں سمجھتا ہوں کہ آسمان سے پتھر برسنے میں دیر ہو رہی ہے ۔
صحیح بخاری میں زبیر بن عدی سے روایت آئی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت انس بن مالک کے پاس گیے اور حجاج کے ظلم کی شکایت کی۔ انھوں نے کہا کہ صبر کرو۔ کیوں کہ اب تمہارے اوپر جو بھی زمانہ آئے گا وہ پہلے سے زیادہ برا ہوگا۔ یہاں تک کہ تم اپنے رب سے مل جاؤ۔ ایسا ہی میں نے تمہارے نبی سے سنا ہے (مشکوۃ المصابیح ، الجزء الثالث ، صفحہ ۱۲۸۳) ان دونوں باتوں کو ملا کر دیکھئے تو آج کا زمانہ مسلمانوں کے زوال کے اعتبار سے پچھلے تمام زمانوں سے زیادہ برا ہے۔ آج مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا داخلی بگاڑ ہے نہ کہ دوسری قوموں کا ظلم ۔ یہ حقیقت آج ہر مسلمان کو معلوم ہے۔ آپ جس مسلمان سے بات کیجئے ، وہ مسلمانوں کی برائی کرتا ہوا دکھائی دے گا۔ وہ کہے گا کہ مسلمان اپنے دینی اور اخلاقی زوال کی انتہا پر ہیں۔ مگر جب ہندو اور مسلمان کی بات ہو تو وہی مسلمان فوراً ایک طرفہ طور پر ہندو کی برائی کرنے لگے گا۔ اب اچانک مسلمان "خیر امت" بن جائیں گے اور ہندو "کفار لا اعتبار" کا درجہ اختیار کر لیں گے۔ یہ عصبیت جاہلیہ ہے۔ اس کا نام قوم پرستی ہے نہ کہ خدا پرستی ۔