Al-Risala · May 1990 · page 25

Criticism of the Hegelian Philosophy of Right

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۲۵

اشتراکی روس کے حکمران کو یہ غیر معمولی اعزاز دینے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہوں نے اشتراکیت کے قلعہ میں کوئی اضافہ کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اشتراکیت کا قلعہ توڑ دیا۔ آج ساری دنیا کے اخبارات میں ایسے مضامین چھپ رہے ہیں جن کی سرخی اس قسم کی ہوتی ہے:

Marxism is over. Fragmented empire of the U.S.S.R. ہندوستان ٹائمز (یکم جنوری ۱۹۹۰) نے کمیونسٹ دنیا میں تبدیلی اور مارکسی فکر کے انہدام پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے ساتھ ایک با معنی کارٹون شامل کیا ہے۔ اس کارٹون میں اشتراکیت کے بانی کارل مارکس کی قبر دکھائی گئی ہے۔ قبر کے پتھر پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: Marx -- Finally Buried 1989 قرآن میں ہے کہ اللہ اپنے امر پر غالب آکر رہتا ہے، لیکن اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے (یوسف ۲۱)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اشتراکی دنیا میں جو انقلابی تبدیلیاں ہوئی ہیں، وہ اللہ کے اسی قانون کے نتیجہ میں ہوئی ہیں۔

مارکسی اشتراکیت خدا اور مذہب کی نفی تھی۔ اس نے مذہب کو بے حقیقت بتا کر اس کومکمل طور پر رد کر دیا۔ کارل مارکس کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے:

Criticism of the Hegelian Philosophy of Right

اس کتاب کے ابتدائی مضمون (انٹروڈکشن) میں مارکس نے لکھا ہے کہ مذہب عوام کی افیون ہے : Religion is the opium of the people. مارکس کا نظریہ مختلف ملکوں میں پھیلا۔ یہاں تک کہ ۱۹۱۷ میں اس کی بنیاد پر روس میں ایک طاقت ور حکومت قائم ہوگئی۔ پہلی عالمی جنگ میں اشتراکی روس کو مزید موقع ملا اور اس کی سلطنت کا رقبہ بہت زیادہ وسیع ہو گیا۔ اسی کے ساتھ اس نے اتنی زبردست فوجی طاقت حاصل کر لی کہ وہ دو سپر پاور میں سے ایک شمار کیا جانے لگا۔

اشتراکی لیڈروں نے ریاستی طاقت کی مدد سے "دوسری دنیا" میں مذہب کا خاتمہ کر دیا۔ مذہب کے تمام نشانات کو مٹا دیا۔ اسٹالن کے زمانہ میں ایک کروڑ سے زیادہ آدمی قتل کر دیئے گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page