Al-Risala · May 1990 · page 27

حکیما تدبیر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۲۷

حکیما تدبیر

دنیا مقابلہ کا میدان ہے۔ یہ مقابلہ اول دن سے جاری ہے اور آخری دن تک جاری رہے گا۔ مقابلہ کا یہ نظام خود خدا کا قائم کیا ہوا ہے ۔ اس لئے کوئی شخص یا قوم اس کو بدلنے پر قادر نہیں ، خواہ وہ اس کے خلاف کتنا ہی نہ زیادہ فریاد اور احتجاج کرے۔

مقابلہ کی اس دنیا میں کوئی شخص صرف حکیمانہ تدبیر سے کامیاب ہو سکتا ہے ۔ حکیمانہ تدبیر سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے اور دوسرے کے معاملہ کو گہرائی کے ساتھ سمجھے اور ایسے حالات پیدا کرے جس میں فیصلہ کا سرا اس کے اپنے ہاتھ میں آجائے ۔ اس بات کو ایک لطیفہ سے بخوبی طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ایک سارس اور ایک لومڑی میں دوستی تھی ۔ ایک بار لومڑی نے سارس سے کہا کہ آؤ ہم دونوں مل کر کھیر پکائیں ۔ کچھ سامان تم لاؤ اور کچھ سامان میں لاؤں ۔ اس طرح کھیر تیار کی جائے اور پھر دونوں مل کر اسے کھائیں ۔ چنانچہ دونوں سامان لے آئے اور کھیر پک کر تیار کی گئی۔ جب کھیر کو نکال کر برتن میں رکھنے کا وقت آیا تو لومڑی فوراً ایک تھال لے آئی ۔ اس نے کہا کہ کھیر اس میں رکھی جائے گی ۔ کھیر کو تھال میں رکھ کر لومڑی نے کھانا شروع کر دیا اور سارس سے کہا کہ آؤ تم بھی کھاؤ ۔ تھال جیسے برتن میں کھانا لومڑی کے لئے آسان تھا ۔ چنانچہ لومڑی ساری کھیر کھا گئی۔ سارس اپنی لمبی چونچ پھیلے ہوئے تھال میں ادھر ادھر مارتا رہا مگر وہ کھیر کی بہت کم مقدار حاصل کر سکا۔ سارس نے اپنے دل میں کہا کہ لومڑی نے تو اس طرح مجھے بیوقوف بنا دیا۔ آخر کار اس نے سوچ کر ایک تدبیر نکالی ۔ اس نے لومڑی سے کہا کہ آؤ ایک بار اور ہم دونوں مل کر کھیر پکائیں۔ دوبارہ دونوں سامان لے آئے ۔ اور کھیر پک کر تیار کی گئی ۔ اب سارس نے پیشگی منصوبہ کے مطابق فوراً ایک صراحی لا کر رکھ دی ۔ اور کہا کہ کھیر اس میں رکھی جائے گی ۔ چنانچہ کھیر نکال کر صراحی میں رکھ دی گئی ۔ سارس نے فوراً صراحی کے منہ میں اپنی لمبی چونچ ڈال کر کھیر کو کھانا شروع کر دیا اور لومڑی سے کہا کہ تم بھی کھاؤ ۔ مگر اب صورت حال سارس کے حق میں تھی ۔ سارس نے خوب سیر ہو کر کھیر کھائی اور لومڑی بھوکی رہ گئی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page