حکیما تدبیر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۲۸
انسانیت کی پوری تاریخ میں سارس اور لومڑی کی یہی کہانی دہرائی جارہی ہے۔ جو لوگ کھیل کو اپنے موافق برتن میں رکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ اس میں سے حصہ پاتے ہیں، اور جو لوگ کھیل کو اپنے موافق برتن میں نہیں رکھ پاتے وہ اس سے محروم رہتے ہیں۔
اس تدبیر کی ایک شاندار مثال صلح حدیبیہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد آپ کے مخالفین (قریش) یہ چاہتے تھے کہ وہ آپ کے اور آپ کے معاملے کو جنگ کے میدان میں طے کریں۔ کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ جنگ کے میدان میں وہ زیادہ موافق پوزیشن میں ہیں۔ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ معاملہ کو امن کے ماحول میں لے آئیں۔ کیوں کہ امن کے ماحول میں نظریہ فیصلہ کن بنتا، اور نظریہ کے اعتبار سے شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر زیادہ برتر پوزیشن حاصل تھی ۔ صلح حدیبیہ نے اسلام کو یہی موافق میدان فراہم کردیا۔ چنانچہ اس کے بعد دو سال سے بھی کم عرصہ میں مکہ فتح ہوگیا۔
اب ہندوستان کے مخصوص حالات کے اعتبار سے اس معاملہ پر غور کیجیے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کا مقابلہ ہندو فرقہ سے ہے۔ مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ ہندو ان کے اوپر ظلم کرتا ہے۔ اور فرقہ وارانہ جھگڑوں میں انہیں سخت نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ نقصان کی بات بطور واقعہ درست ہے۔ مگر یہ نقصان خود مسلمانوں کے سطحی قائدین کی نادانی کی بنا پر پیش آرہا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنی کم فہمی کی بنا پر مذکورہ تدبیر کو مسلمانوں کے حق میں استعمال نہ کرسکے۔
ہندو قوم اس وقت تین بڑے طبقوں پر مشتمل ہے۔ ایک تعلیم یافتہ طبقہ جو ملک کے اکثر انتظامی اور سماجی عہدوں پر قابض ہے۔ دوسرا تاجر طبقہ جو ملک کی بیشتر اقتصادیات پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔ تیسرا گروہ ہندو عوام اور پس ماندہ طبقات کا ہے۔ جو تعداد کے اعتبار سے ہند و قوم کا زیادہ بڑا حصہ ہیں۔
تعلیم یافتہ طبقہ اپنے تعلیمی مزاج کی بنا پر سیکولر یا سائنٹفک ڈھنگ سے سوچتا ہے۔ وہ معاملات پر فرقہ وارانہ انداز کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں رائے قائم کرتا ہے۔ تاجر طبقہ کے سامنے اصلاً اس کا تجارتی مفاد ہے۔ چوں کہ تجارت کی مشین کو جاری رکھنے کے لئے امن ضروری ہے، اس لئے وہ چاہتا ہے کہ ملک میں امن کا ماحول قائم رہے۔ تا کہ اس کے تجارتی عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔