حکیما تدبیر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۲۹
تیسرا طبقہ زیادہ تر غریب اور بے روزگار یا کم آمدنی والے لوگوں پر مشتمل ہے۔ یہی طبقہ اصلی تمام فساد میں ملوث ہوتا ہے۔ اس کا فائدہ دنگے اور فساد میں ہے۔ کیوں کہ فساد میں اس کو لوٹنے کا موقع ملتا ہے۔ پرامن حالات میں لوٹنے والا نور فوج اورسی قانون کی زد میں آ جاتا ہے۔ مگر فساد کے موقع پر جو لوگ لوٹ مار کرتے ہیں ان کو یہ اطمینان حاصل رہتا ہے کہ ملک کے موجودہ نظام میں ان کی کوئی قانونی پکڑ ہونے والی نہیں۔
ہند و قوم کے ان تین طبقات کو آسانی کی خاطر دو گروہ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ ایک گروہ پہلے اور دوسرے طبقہ کا۔ یہ پہلا گروہ اپنے مزاج یا اپنے مفاد کے تحت فساد اور بد نظمی کو نہیں چاہتا ۔ البتہ ان کے علاوہ ہند وؤں کا جو عوامی گروہ ہے اس کی ایک تعداد فساد میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اسی گروہ کے افراد فرقہ پرست تنظیموں میں شامل ہوتے ہیں۔ یہی لوگ جلوس نکالتے ہیں اور مسلم مخالف نعرے بلند کرتے ہیں ۔ یہی لوگ مختلف طریقوں سے ایسی کارروائیاں کرتے ہیں جن سے مسلمان مشتعل ہو کر تشدد کریں ۔ تاکہ انھیں مسلم بستیوں میں لوٹ مار کا موقع مل سکے۔
اب مسلمانوں کا فائدہ اس میں ہے کہ ملک میں جب کبھی فرقہ وارانہ مسئلہ یا کشیدگی کی صورت پیدا ہو تو وہ "کھییر" کو اپنے موافق برتن میں رکھنے کی کوشش کریں ۔ یعنی وہ حکیمانہ تد بیر کے ذریعہ اس کی کوشش کریں کہ مسئلہ کو طے کرنے کے لئے اس کو پہلے گروہ ( ہند و خواص ) کی سطح پر لایا جائے ۔ وہ دوسرے گروہ ( ہند و عوام ) کی سطح پر نہ جانے پائے۔ پہلے گروہ کی سطح پر معاملہ کا فیصلہ کیا جائے تو یہ فیصلہ ہمیشہ مسلمانوں کے موافق ہوگا۔ اور اگر وہ دوسرے گروہ کی سطح پر چلا گیا تو شدید اندیشہ ہے کہ فیصلہ ان کے خلاف ہو جائے ۔
اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ایک واقعاتی مثال لیجئے ۔ یہ مثال موافق برتن اور مخالف برتن کے نظریہ کو بہت اچھی طرح واضح کر رہی ہے ۔
ایک واقعہ
مدراس میں ۷۰ ویلج روڈ پر ایک مسجد بنائی گئی ہے۔ یہ مسجد مسلم ویلفیر ایسوسی ایشن کے زیر انتظام ہے ۔ اس مسجد پر اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر لگایا گیا تو علاقہ کے کچھ ہندوؤں کو اس پر اعتراض ہوا۔ انھوں نے پولیس سے شکایت کی کہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان سے ہمارے گھروں اور ہمارے مندروں کے سکون