Al-Risala · May 1990 · page 30

حکیما تدبیر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۳۰

میں خلل واقع ہوتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو لاوڈ اسپیکر پر اذان دینے سے روکا جائے۔ مگر مدر اس پولیس نے اس شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

اس کے بعد ایک مقامی ہندو نے مدراس ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کیا۔ اور عدالت سے درخواست کی کہ لاوڈ اسپیکر کی اذان مقامی ہندوؤں کے لیے تکلیف (Nuisance) کا باعث ہے، اس لیے اس کو بند کرنے کا حکم جاری کیا جائے ۔

جسٹس بکٹھاوت سولم۔ نے دونوں فریقوں کے بیانات سننے کے بعد ۱۲ جولائی ۱۹۸۹ کو اپنا فیصلہ سنایا۔ انھوں نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں عدالت کو مداخلت کرنی چاہیے ۔ مدعی کے دلائل میری نظر میں تشفی بخش نہیں ہیں ۔ ایک جمہوری ملک میں ہر شخص کو حق ہے کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرے ۔ اس طرح کے معاملات میں ضروری ہے کہ لوگوں کے اندر تحمل اور روا داری (Tolerance) ہو، خاص طور پر ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مختلف مذاہب پر عمل کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ اس بنا پر میں نہیں سمجھتا کہ مدعی کی درخواست قابل لحاظ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال عین قانون کے مطابق ہے ۔ اس اظہار خیال کے ساتھ مدعی کی درخواست خارج کی جاتی ہے :

With these observations, the writ petition will stand dismissed. مدراس ہائی کورٹ کا فیصلہ مکمل اور اصلی صورت میں الرسالة انگریزی (دسمبر ۱۹۸۹) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ بتاتا ہے کہ ہندوستان میں اگر کچھ لوگ متعصب اور فرقہ پرست ہیں تو یہاں ان کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ہیں جو بے تعصب اور انصاف پسند ہیں ۔ مزید یہ کہ یہ دوسرے لوگ اس حد تک طاقت ور ہیں کہ وہ پہلے گروہ کے ارادے کو علی میں آنے سے روک دیں ۔ اب اس واقعہ پر ایک اور انداز سے غور کیجیے ۔ فرض کیجیے کہ مدراس کی مذکورہ مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر جب ہندوؤں نے اعتراض کیا تو وہاں کے مسلمان بگڑ جاتے۔ وہ اس کے مقابلہ میں جلسہ اور ایجی ٹیشن کی سیاست چلاتے ۔ وہ ہندوؤں سے ٹکراؤ کرتے ، تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا۔ ہندوؤں کی ضد بڑھتی ۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں فرقہ وارانہ لڑائی چھڑ جاتی ۔ اب وہی واقعات پیش آتے جو شمالی ہند میں اسی قسم کے مسائل پر پیش آتے رہتے ہیں ۔ یعنی دونوں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page