بابری مسجد کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۳۱
فرقوں کے درمیان فساد، اور پھر مسلمانوں کا یک طرفہ طور پر مارا جانا۔ اور ان سب کے باوجود اصل مسئلے کا اپنی جگہ بدستور باقی رہنا۔
ہائی کورٹ کے جج امکانی طور پر منتظر تھے کہ مسلمان ان کی عدالت میں اپنے مقدمہ کی پیروی کریں اور وہ عین مسلمانوں کے حق میں قانونی فیصلہ دے دیں۔ مگر مسلمانوں کی غیر حکیمانہ روش کے نتیجہ میں یہ ہوتا کہ تمام جج گویا انتظار میں پڑے رہتے اور مسلمان غیر ضروری طور پر مارے جاتے۔ ان کی جائدادیں جلائی جاتیں۔ لاؤڈ اسپیکر کو بچانے کے نام پر پوری مسجد ویران کر دی جاتی۔ یہ امکان اپنی پوری موجودگی کے باوجود، مسلمانوں کے حق میں واقعہ نہ بن سکتا۔ اس دنیا میں کوئی امکان اپنے آپ کسی کے حصہ میں نہیں آتا۔ یہاں ہر امکان کو استعمال کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی وہ کسی کے لئے واقعہ بنتا ہے۔
مدر اس کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے کامیابی کا عظیم امکان موجود ہے، مگر مسلمان اب تک اس امکان کو استعمال نہ کر سکے، اس لئے ان کے مسائل بھی اب تک حل نہیں ہوئے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کے موجودہ رہنماؤں نے مجرمانہ حد تک غفلت کا ثبوت دیا ہے۔ مسجد کے معاملہ کو عدالت کے ذریعہ طے کرنا گویا کھیِر کو اپنے موافق برتن میں رکھنا تھا۔ اس کے برعکس مسجد کا مسئلہ اگر عوامی مظاہرہ کا موضوع بنایا جاتا تو یہ کھیِر کو ایسے برتن میں رکھنا ہوتا جو مسلمانوں کے لئے غیر موافق تھا۔ پہلی صورت میں کھیِر پوری طرح مسلمانوں کے حصہ میں آئی۔ جب کہ دوسری صورت میں کھیِر تمام تر دوسرے کے حصہ میں چلی جاتی۔
اب ایک اور مثال لیجئے ۔ یہ مثال وہ ہے جس کو مسلمانوں کے موجودہ مسائل میں نمبر ایک درجہ دیا جاتا ہے۔ یہ اجودھیا کی بابری مسجد کا مسئلہ ہے۔
بابری مسجد کا مسئلہ
بابری مسجد اجودھیا) کا مسئلہ اگرچہ ملک کے بٹوارہ کے پہلے سے موجود ہے۔ تاہم اپنی موجودہ صورت میں اس کا آغاز فروری ۱۹۸۶ میں ہوتا ہے جب کہ فیض آباد ڈسٹرکٹ جج کے حکم سے اس کا تالا کھول دیا گیا اور ہندوؤں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ مسجد کے اندر اپنی مورتیاں رکھ دیں۔ اس کے بعد مسلمانوں (صحیح تر لفظ میں مسلمانوں کے نام نہاد لیڈروں ) نے کیا کیا۔ ان کے لئے عین وہی