Al-Risala · May 1990 · page 32

بابری مسجد کا مسئلہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۳۲

امکان موجود تھا جس کی ایک مثال مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کی صورت میں اوپر بتائی گئی ہے۔ مگر مسلم لیڈروں نے اس امکان کو استعمال نہ کرتے ہوئے عین اس کے برعکس عمل کیا۔ مارچ ۱۹۸۶ میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی بنائی گئی۔ اس نے فوراً ہی ایجی ٹیشن کے انداز میں اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں جلسے کر کے جو شیلی تقریریں کی گئیں اور جلوس کے مظاہرے سڑکوں پر کئے جانے لگے۔ ۲۶ جنوری ۱۹۸۷ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔ مارچ ۱۹۸۷ میں تین لاکھ مسلمانوں کی ریلی دہلی میں نکالی گئی جس میں نعروں اور تقریروں کا ہنگامہ گرم کیا گیا۔ اعلان کیا گیا کہ اگست اور اکتوبر ۱۹۸۸ء میں لاکھوں مسلمان مارچ کرتے ہوئے اجودھیا میں داخل ہوں گے اور بابری مسجد میں گھس کر جمعہ کی نماز پڑھیں گے۔ نشور وغل کی اس سیاست سے بابری مسجد تو مسلمانوں کو نہیں ملی۔ البتہ فرقہ پرست ہندو جاگ اٹھے۔ یوپی ، بہار ، مدھیہ پردیش ، گجرات وغیرہ میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جن میں مسلمان ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے۔ اربوں روپے کی جائدادیں برباد کر دی گئیں۔

جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، عین اس وقت اس مسئلہ کے حل کے لئے ایک انتہائی شاندار امکان مسلمانوں کے لئے اس ملک میں موجود تھا۔ مگر مسلم لیڈر اپنی ناقابل فہم بے خبری کی بنا پر نہ اس سے آگاہ ہوئے اور نہ اس امکان کو استعمال کرنے کی کوئی سنجیدہ تدبیر کر سکے۔

یہاں میں ایک خصوصی میٹنگ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کا تفصیلی تذکرہ الرسالہ جولائی ۱۹۸۸ میں چھپ چکا ہے۔ یہ میٹنگ نئی دہلی کے وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس میں ۲۷ مارچ ۱۹۸۸ کو ہوئی ۔ اس کا مقصد بابری مسجد (اجودھیا) کے مسئلہ کا حل تلاش کرنا تھا۔ اس میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے ذمہ دار حضرات شریک ہوئے۔ مسلمانوں کی طرف سے جن لوگوں نے میٹنگ میں شرکت کی ، ان میں سے ایک میں بھی تھا۔ ہندو وسائڈ میں مہنت اوید ناتھ (صدر رام جنم بھومی مکتی یگئے سمتی)، آچاریہ دینی سوشیل کمار، سبھجے ڈاملیا اور دوسرے بہت سے ذمہ دار حضرات شریک تھے۔

جب تمام لوگ بول چکے تو میں نے ایک مختصر تقریر کی۔ ضروری پہلوؤں پر اظہار خیال کے بعد میں نے کہا کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے سب سے زیادہ بہتر طریقہ ثالثی کا اصول ہے۔ اگر دونوں فریق ثالثی کے اصول کو مان لیں تو میری تجویز ہے کہ مسئلہ تاریخ دانوں (تاریخ کے پروفیسروں) کا ایک بورڈ بنایا جائے۔ دونوں طرف کے ذمہ دار لوگ اس بات کا پیشگی عہد کریں کہ تاریخ دانوں کا بورڈ جو فیصلہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page