Al-Risala · May 1990 · page 42

ذہنی سفر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۴۲

ذہنی سفر

سید شفیع الدین صاحب ایک اعلی تعلیم یافتہ مسلمان ہیں۔ وہ الرسالہ اردو ، انگریزی دونوں کے مستقل قاری ہیں ۔ وہ جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ایک حلقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس حلقہ کے لوگوں نے جب الرسالہ کو پڑھنا شروع کیا تو یہ مطالعہ ان کے لیے ایک قسم کا ذہنی سفر بن گیا ۔ اس سفر میں طرح طرح کے مراحل آئے ۔ وہ مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے آخر کار مکمل اتفاق تک پہو نچ گیے ۔ سید شفیع الدین صاحب انگریزی کے شاعر بھی ہیں ۔ انھوں نے اپنے اور دوسرے لوگوں کے مذکورہ ذہنی سفر کو ایک نظم میں نہایت خوبی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سفر کی یہ رو داد صرف ایک خاص حلقہ کی نہیں بلکہ بہت سے قارئین الرسالہ کی روداد بھی ہے۔ ان کی یہ نظم نیچے نقل کی جاتی ہے اور مقابل کے صفحہ پر اس کا اردو ترجمہ درج ہے ۔ Stages: Impact of 'Al-Risala' I am furious and agitated Restlessly coiling, I hiss and flash ... You have struck hard At my raised hood of false pride!

I am confused and disillusioned At my own battered and vulnerable r

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page