The Message of the Hudaybiah Peace
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۴۶
انگریزی مضمون نقل کیا ہے ۔ اس کا عنوان ہے :
The Message of the Hudaybiah Peace
۶ - کمانڈر یوسف خاں صاحب اعلیٰ ٹریننگ کے پروگرام کے تحت امریکہ گئے ۔ وہاں وہ چھ مہینہ (۱۹۸۹) کا نصف آخر مقیم رہے ۔ وہ اپنے ساتھ الرسالہ کے شمارے اور انگریزی کتابیں بھی لے گئے تھے ۔ انھوں نے تقریباًاً ۲۵ مسلموں اور غیر مسلموں کو رسالے اور کتابیں دیں۔ اور لوگوں سے کہا کہ خود پڑھنے کے بعد وہ دوسروں کو پڑھنے کے لیے دیتے رہیں ۔ پڑھنے والوں نے عام طور پر اس کو پسند کیا اور مزید مطالعہ کی خواہش ظاہر کی ۷ - ایک صاحب لکھتے ہیں : میں پانچ سال سے الرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہوں ۔ صحیح معنوں میں اسلام کی بے آمیز دعوت کو عام انسانوں تک پہنچانا اس جریدہ کا مقصد ہے ۔ اسی میں دورِ جدید کے مسلمانوں کی اصلاح اور تعمیر مضمر ہے ۔ میں نے الرسالہ کی دس کاپیوں کی ایجنسی لی ہے۔ اس کے علاوہ ہر ماہ تقریباً پچاس آدمیوں کو پڑھ کر سناتا ہوں ۔ بڑی حد تک کامیابی ملی ہے۔ اس ملک میں شیلاپوجن کو لے کر کچھ جگہوں پر فساد ہوئے ۔ لیکن جس قدر بڑے پیمانے پر فسادات کا اندازہ تھا اس سے بہت کم فسادات ہوئے ۔ اس کی خاص وجہ اعراض اور صبر کا عمل ہے جو مسلمانوں نے قائم کیا ۔ یہ صرف الرسالہ کی دین تھی ۔ میں نے آپ کی تقریب تمام کتابیں منگوائی ہیں اور اکبجوں میں سپلائی کی ہے ۔ انشاء اللہ مزید اکبجوں میں سپلائی کروں گا۔ (محمد اشفاق صدری ، ہستی پور)
۸ - ایک صاحب نے بتایا کہ انھیں کچھ چھپے ہوئے ہینڈ بل ملے جن میں الرسالہ مشن پر سب وشتم کیا گیا تھا ۔ ان میں عبدالبصیر (مٹیا محل ، دہلی) اور اظہار الحق خاں (چستی قبر ، دہلی) کے نام درج تھے ۔ انھوں نے دہلی کے دونوں مقامات پر تحقیق کی۔ معلوم ہوا کہ وہاں اس نام کا کوئی شخص موجود نہیں جس نے اس قسم کا مضمون تحریر کیا ہو ۔ اس مخالفانہ ہینڈ بل اور مضمون کو کچھ رسالے اور اخبارات مزید نقل کر رہے ہیں اور ان کو بنیاد بنا کر مقالے شائع کر رہے ہیں۔ جو لوگ اس طرح فرضی ناموں سے مضمون لکھیں وہ بلاشبہ بزدل ہیں اور جو لوگ ان کو بلا تحقیق چھاپ کر پھیلائیں وہ بلاشبہ شرپسند ہیں ۔ بزدلی اور شرپسندی کے تحت جو مہم چلائی جائے اس کے انجام