Al-Risala · June 1990 · page 10

بے ترتیب نماز

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۱۰

طرح اٹل نظر نہیں آتا جیسا کہ نماز کا نظر آتا ہے۔ حالاں کہ شرعی حکم یا سنتِ رسول ہونے کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔

"پہلے اقتدار اور اس کے بعد ذہن سازی" کا نظریہ اگر صحیح ہوتا تو خدا کے تمام پیغمبر سب سے پہلے اس نظریہ پر عمل کرتے ۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ مواقع ملنے کے باوجود انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کے لوگوں کی طرف سے یہ پیش کش کی گئی کہ اگر آپ اپنی اس دعوت کے ذریعہ حکومت کے طالب ہیں تو ۴۰ آپ کو اپنے اوپر حاکم بنا لیتے ہیں (و ان كنت تريد به ملكاً ملكناك علينا ، سيرة ابن هشام، الجزء الاول، صفحہ ۳۱۵) مگر آپ نے حکومت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ اقتدار سے الگ رہ کر توحید اور آخرت کے عقیدہ کو لوگوں کے دلوں میں داخل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہی واقعہ ایک اور شکل میں پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مصر میں مبعوث کیا۔ وہاں آپ نے فرعون کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی ۔ لمبے عرصہ تک آپ جد و جہد کرتے رہے۔ مگر فرعون نے آپ کی دعوت قبول نہ کی۔ یہاں تک کہ اللہ کی نظر میں وہ قابل سزا ٹھہرا۔ اس کے بعد فرعون اور اس کا پورا لشکر سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ فرعون کی فوجی طاقت مکمل طور پر ختم ہو گئی ۔ اب حضرت موسیٰ کے لیے موقع تھا کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ لوٹ آئیں اور مصر کے خالی تخت پر بیٹھ جائیں۔ وہ مصر کے شاہی محل اور اس کے ایوانِ حکومت پر قبضہ کر لیں۔ اس طرح اقتدار حاصل کر لینے کے بعد وہ مصر کے لوگوں کا یا بنی اسرائیل کا ذہن بدلنے کا کام کریں۔ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسا نہیں کیا۔ مصر میں سیاسی قبضہ کے مواقع ہونے کے باوجود وہ مصر کو چھوڑ کر صحرائے سینا میں چلے گئے ۔ اور وہاں دعوتی انداز میں بنی اسرائیل کی اصلاح و تربیت کا کام کرتے رہے۔ تربیت کا یہ کام جب ۴۰ سال میں مکمل ہو گیا ، اس وقت بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں سیاسی اور فوجی اقدام کیا ، اور عنانسہ کو مغلوب کر کے شام وفلسطین پر اپنی حکومت قائم کی ۔

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں ریڈیو اور ٹیلی وژن جیسی چیزوں کی ایجاد نے ہمارے لیے نئے مواقع پیدا کر دیے ہیں ۔ یہ ذہن سازی کے نہایت وسیع اور کارگر ذرائع ہیں ۔ مگر ان کو استعمال کرنے کے لیے اقتدار کا ہونا ضروری ہے ۔ اس لیے آج کی ضرورت یہ ہے کہ پہلے اقتدار پر قبضہ کر لیا جائے، اس کے بعد نیوز میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو استعمال کر کے عوام کی دینی تربیت کی جائے ۔ اس طرح خود ذہن سازی

‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues

Printed page