Al-Risala · June 1990 · page 11

بے ترتیب نماز

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۱۱

کے کام کا تقاضا ہے کہ پہلے اقتدار پر قبضہ حاصل کیا جائے تاکہ تربیت عوام کے اس موثر ذریعہ کو اسلام کے حق میں استعمال کیا جاسکے۔

مگر یہ محض خوبصورت الفاظ ہیں ۔ اس کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جس طرح وضو اور نماز کی ترتیب ابدی ہے اسی طرح ذہنی انقلاب اور حکومتی انقلاب کی ترتیب بھی ابدی ہے۔ دورِ اول میں جس طرح انقلاب لایا گیا، بعد کے دور میں بھی اگر انقلاب لایا جا سکتا ہے تو اسی طرح لایا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا دوسرا ہر طریقہ وقت کا ضیاع ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

تجربات اس نظریہ کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ۔ مثال کے طور پر جنرل محمد ضیاء الحق نے ۱۹۷۷ء میں پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اور ساڑھے گیارہ سال کی طویل مدت تک پاکستان کے مطلق حکمراں بنے رہے۔ پاکستان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد، دوسری بہت سی کارروائیوں کے علاوہ انھوں نے یہ کیا کہ ایک اسلام پسند لیڈر (محمود اعظم فاروقی) کو اطلاعات و نشریات کے محکمہ کا وزیر بنا دیا۔ اس کے بعد وہ مہم پوری طرح جاری کر دی گئی جس کو میڈیا کے ذریعہ عوام کی دینی تربیت کہا جاتا ہے۔ مگر طویل کوشش کے باوجود اس کا ایک فی صد فائدہ بھی حاصل نہیں ہوا۔ پاکستان کا معاشرہ مزید بگڑتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ ضیاء الحق صاحب کی موت کے بعد پاکستان کا جو پہلا الیکشن (نومبر ۱۹۸۸ء) ہوا، اس میں پاکستان کے عوام نے اسلامی نظام کے حامیوں کو چھوڑ کر ان لوگوں کو مرکزی اقتدار پر بٹھا دیا جو بالاعلان طور پر سیکولر نظام کے حامی تھے۔

ایجنسی ایک پروگرام

اگر آپ الرسالہ کو پسند کرتے ہیں تو الرسالہ کی ایجنسی لیجئے ۔ الرسالہ کی ایجنسی لینا اپنی پسند کو ایک متحرک مشن بنا دینا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues

Printed page